ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 318

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۱۸ ازالہ اوہام حصہ اول کر سکتا ہے جو ایک مامور من اللہ کی نسبت جن جن فتوحات اور امور عظیمہ کا تذکرہ پیشگوئی کے لباس میں ہوتا ہے اس میں یہ ہر گز ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ وہ سب کچھ اُسی کے ذریعہ (۲۸) سے پورا بھی ہو جائے بلکہ اُس کے خالص متبعین اس کے ہاتھوں اور پیروں کی طرح سمجھے جاتے ہیں اور ان کی تمام کارروائیاں اُسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں۔ جیسے ایک سپہ سالار کسی معرکہ جنگ میں عمدہ عمدہ سپاہیوں اور مدبروں کی مدد سے کسی دشمن کو گرفتار کرتا ہے یا قتل کر دیتا ہے تو وہ تمام کارروائی اُسی کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور بلا تکلف کہا جاتا ہے کہ اُس نے گرفتار کیا یا قتل کیا۔ پس جبکہ یہ محاورہ شائع متعارف ہے تو اس بات میں کونسا تکلف ہے کہ اگر فرض کے طور پر بھی تسلیم کر لیں کہ بعض پیشگوئیوں کا اپنی ظاہری صورت پر بھی پورا ہونا ضروری ہے تو ساتھ اس کے یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ وہ پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی اور ایسے لوگوں کے ہاتھ سے اُن کی تکمیل کرائی جائے گی کہ جو پورے طور پر پیروی کی راہوں میں فانی ہونے کی وجہ سے اور نیز آسمانی روح کے لینے کے باعث سے اس عاجز کے وجود کے ہی حکم میں ہوں گے اور ایک پیشگوئی بھی جو براہین میں درج ہو چکی ہے اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور وہ الہام یہ ہے یا عیسی انی متوفیک ورافعك الى وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ۔ اس سیح کو بھی یا درکھو جو اس عاجز کی ذریت میں سے ہے جس کا نام ابن مریم بھی رکھا گیا ہے کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام سے بھی پکارا ہے۔ (1) (۸) سوال ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیوں کا یہی عقیدہ تھا کہ در حقیقت مسیح ابن مریم ہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے پس اگر یہ عقیدہ صحیح نہیں تھا تو کیوں خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی تکذیب نہ کی بلکہ حدیثوں میں ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیا گیا۔