ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 316
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۱۶ ازالہ اوہام حصہ اول ایسا ہی دجال کے طواف کعبہ میں کس قدر دور از حقیقت تاویلوں سے کام لیا ہے۔ سواگر (۳۱۵) فریق ثانی ان مقامات میں تاویلوں سے بکلی دستکش رہتے تو البتہ وہ ہمیں ماڈل خیال کرنے میں کسی قدر معذور ٹھہرتے لیکن اب وہ آپ ہی اس راہ پر قدم مار کر کس منہ سے ہم کو یہ الزام دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ چونکہ در حقیقت یہ کشفی عبارتیں استعارات سے پر ہیں اس لئے کسی فریق کے لئے ممکن نہیں کہ ان کو ہر یک جگہ ظاہر پر حمل کر سکے۔ لمبے ہاتھوں کی حدیث لمبے ہاتھ کر کے بتلا رہی ہے کہ ان مکاشفات میں ظاہر پر زور مت دو ور نہ دھو کہ کھاؤ گے مگر کوئی اُس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتا جو قبر کے عذاب کی نسبت حدیثوں میں بکثرت یہ بیان پایا جاتا ہے کہ ان میں گنہ گار ہونے کی حالت میں بچھو ہوں گے اور سانپ ہوں گے اور آگ ہوگی ۔ اگر ظاہر پر ہی ان حدیثوں کو حمل کرنا ہے تو ایسی چند قبریں کھو دو اور اُن میں سانپ اور بچھو دکھلاؤ۔ پھر بعد اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ظاہر پر ہی ان بعض مختلف حدیثوں کو جو ہنوز ہماری حالت موجودہ سے مطابقت نہیں رکھتیں محمول کیا جائے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو اس عاجز کے ایک ایسے کامل متبع کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں پورا کر دیوے جو منجانب اللہ مثیل مسیح کا مرتبہ رکھتا ہو۔ اور ہر یک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ متبعین کے ذریعہ سے بعض خدمات کا پورا ہونا در حقیقت ایسا ہی ہے کہ گویا ہم نے اپنے ہاتھ سے وہ خدمات پوری کیں۔ بالخصوص جب بعض متبعین فنافی الشیخ کی (۲۱۲) حالت اختیار کر کے ہمارا ہی روپ لے لیں اور خدائے تعالیٰ کا فضل انہیں وہ مرتبہ ظلی طور پر بخش دیوے جو ہمیں بخشا۔ تو اس صورت میں بلاشبہ اُن کا ساخته پرداختہ ہمارا ساخته پرداخته ہے کیونکہ جو ہمارے راہ پر چلتا ہے۔ وہ ہم سے جدا نہیں اور جو ہمارے مقاصد کو ہم میں ہو کر پورا کرتا ہے وہ درحقیقت ہمارے ہی وجود میں داخل ہے۔ اس لئے وہ جزو اور شاخ ہونے کی وجہ سے مسیح موعود کی پیشگوئی میں بھی شریک ہے کیونکہ وہ کوئی جدا شخص نہیں ۔ پس اگر