ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 335

روحانی خزائن جلد۳ ۳۳۵ ازالہ اوہام حصہ دوم اند ھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجزوم صاف نہ ہوں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے آپ اپنے پاک کلام میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ بندگانِ خدا کو بہت صاف کر رہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو ۔ یقیناً سمجھو کہ روحانی حیات کا تخم ایک رائی کے بیج کی طرح بویا گیا مگر قریب ہے ہاں بہت قریب ہے کہ ایک بڑا درخت ہو کر نظر آئے گا ۔ جسمانی خیالات کا انسان جسمانی باتوں کو پسند کرتا ہے اور اُن کو بڑی چیز سمجھتا ہے مگر جس کو کچھ ۴۴۳ ) روحانیت کا حصہ دیا گیا ہے وہ روحانی زندگی کا طالب ہوتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے راستبا ز بندے دنیا میں اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں کو تماشے دکھلا ئیں بلکہ اصل مطلب اُن کا جذب الی اللہ ہوتا ہے اور آخر کار وہ اسی قوت قدسیہ کی وجہ سے شناخت کئے جاتے ہیں ۔ وہ نور جو اُن کے اندر قوت جذب رکھتا ہے اگر چہ کوئی شخص امتحان کے طور سے اس کو دیکھ نہیں سکتا بلکہ ٹھوکر کھاتا ہے۔ مگر وہ نور آپ ہی ایک ایسی جماعت کو اپنی طرف کھینچ کر جو کھینچے جانے کے لائق ہے اپنا خارق عادت اثر ظاہر کر دیتا ہے ۔ (۱) خدائے تعالیٰ کے خالص دوستوں کی یہ علامتیں ہیں کہ ایک خالص محبت ان کو عطا کی جاتی ہے جس کا اندازہ کرنا اس جہان کے لوگوں کا کام نہیں ۔ (٢) اُن کے دلوں پر ایک خوف بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دقائق اطاعت کی رعایت رکھتے ہیں ایسا نہ ہو کہ یار قدیم آزردہ ہو جائے ۔ (۳) ان کو خارق عادت استقامت دی جاتی ہے کہ اپنے وقت پر دیکھنے والوں کو (۴۲۴ حیران کر دیتی ہے ۔