ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 332
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۲ ازالہ اوہام حصہ دوم تاکید کرے اور جماعت مومنین سے دور پھینک دیوے جن کی رفاقت صلوٰۃ کی تعمیل کے لئے ضروری تھی ۔ کیا ایسے اُٹھائے جانے سے بجز بہت سے نقصان عمل اور ضائع ہونے حقوق عباد اور فوت ہونے خدمت امر معروف اور نہی منکر کے کچھ اور بھی فائدہ ہوا ؟ اگر یہی اٹھارہ سوا کا نوے برس زمین پر زندہ رہتے تو اُن کی ذات جامع البرکات سے کیا کیا نفع خلق اللہ کو پہنچتا لیکن اُن کے اوپر تشریف لے جانے سے بجز اس کے اور کون سا نتیجہ نکلا کہ اُن کی اُمت بگڑ گئی اور وہ خدمات نبوت کے بجالانے سے بکلی محروم رہ گئے ۔ ۱۸۹۱ پھر جب ہم اس آیت پر بھی نظر ڈالیں کہ جو اللہ جل شانه قرآن شریف میں ۴۳۸) فرماتا ہے کہ کوئی جسم کسی بشر کا ہم نے ایسا نہیں بنایا کہ بغیر روٹی کے زندہ رہ سکے تو ہمارے مخالفوں کے عقیدہ کے موافق یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ آسمان پر روٹی بھی کھاتے ہوں پاخانہ بھی پھرتے ہوں اور ضروریات بشریت جیسے کپڑے اور برتن اور کھانے کی چیزیں سب موجود ہوں مگر کیا یہ سب کچھ قرآن اور حدیث سے ثابت ہو جائے گا ؟ ہر گز نہیں ۔ آخر ہمارے مخالف یہی جواب دیں گے کہ جس طرز سے وہ آسمان پر زندگی بسر کرتے ہیں وہ انسان کی معمولی زندگی سے نرالی ہے اور وہ انسانی حاجتیں جو زمین پر زندہ انسانوں میں پائی جاتی ہیں وہ سب اُن سے دور کر دی گئی ہیں۔ اور اُن کا جسم اب ایک ایسا جسم ہے کہ نہ خوراک کا محتاج ہے اور نہ پوشاک کا اور نہ پاخانہ کی حاجت انہیں ہوتی ہے اور نہ پیشاب کی ۔ اور نہ زمین کے جسموں کی طرح اُن کے جسم پر زمانہ اثر کرتا ہے اور نہ وہ اب مکلف احکام شرعیہ ہیں ۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ خدائے تعالیٰ تو صاف فرماتا ہے کہ ان تمام خا کی جسموں کے لئے جب تک زندہ ہیں۔ یہ تمام لوازم غیر منفک ہیں جیسا کہ اس نے فرمایا وَمَا جَعَلْتُهُمْ جَسَدًا لا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ ۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں جز کے ذکر سے گل مراد ہے یعنی الانبياء : ٩