ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 330

روحانی خزائن جلد۳ ۳۳۰ اُس ملہم میں ایسی ہوں کہ دوسروں میں پائی نہ جائیں۔ ازالہ اوہام حصہ دوم ۴۳۴ سو جاننا چاہیے کہ در حقیقت ایسے لوگ واقعی طور پر ملہم نہیں ہوتے بلکہ ایک قسم کے ابتلاء میں مبتلا ہوتے ہیں جس کو وہ اپنی نادانی سے الہام سمجھ لیتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ کا حقیقی اور واقعی طور پر مکالمہ کچھ تھوڑی سی بات نہیں ۔ جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جب ایک تاریکی میں بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے نا گہانی طور پر آفتاب کی طرف کھڑ کی کھل جائے تو کیسی یکدفعہ اس کی حالت بدل جاتی ہے اور کیوں کر آسمانی روشنی اس کے حواس پر کام کر کے ایک تبدیل شدہ زندگی اس کے لئے پیدا کر دیتی ہے اور کیوں کر تاریکی سے جو بالطبع افسردگی کی موجب ہے باہر نکل کر ایک سرور و ذوق اس کے دل میں اور ایک روشنائی اس کی آنکھوں میں اور ایک استقامت اس کی حالت میں پیدا ہو جاتی ہے۔ سو یہی حالت اُس کھڑکی کی ہے جو آسمان کی طرف سے کھلتی ہے اور بہت ہی کم لوگ ہیں جو واقعی اور حقیقی طور پر اُس کو پاتے ہیں اور تم انہیں خارق عادت علامتوں سے شناخت کرو گے۔ (۱۴) سوال ۔ قرآن شریف سے اگر چہ مسیح کی موت ثابت ہوتی ہے مگر اس موت کا ۴۳۵ کوئی وقت خاص تو ثابت نہیں ہوتا ۔ پس تعارض حدیث اور قرآن کا دور کرنے کے لئے بجز اس کے اور کیا راہ ہے کہ اس موت کا زمانہ وہ قرار دیا جائے کہ جب پھر حضرت مسیح نازل ہوں گے ۔ اما الجواب۔ پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی نصوص بینہ اسی بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اُسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لئے آیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے يُعِيْلى انى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ۔ اب اس جگہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اِنّى مُتَوَفِّيكَ پہلے لکھا ہے اور رَافِعُكَ بعد اس کے بیان فرمایا ہے آل عمران : ۵۶