ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 317
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۱۷ ازالہ اوہام حصہ اول ظلمی طور پر وہ بھی خدائے تعالیٰ کی طرف سے مثیل مسیح کا نام پاوے اور موعود میں بھی داخل ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ گو مسیح موعود ایک ہی ہے مگر اس ایک میں ہو کر سب موعود ہی ہیں کیونکہ وہ ایک ہی درخت کی شاخیں اور ایک ہی مقصد موعود کی روحانی یگانگت کی راہ سے متمم و مکمل ہیں اور اُن کو اُن کے پھلوں سے شناخت کرو گے۔ یا د رکھنا چاہیے کہ خدائے تعالی کے وعدے جو اس کے رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی نسبت ہوتے ہیں بھی تو بلا واسطہ پورے ہوتے ہیں اور کبھی بالواسطہ اُن کی تکمیل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ابن مریم کو بھی جو نصرت اور فتح کے وعدے دئے گئے تھے وہ اُن کی زندگی میں پورے نہیں ہوئے بلکہ ایک دوسرے نبی کے ذریعہ سے جو تمام نبیوں کا سردار ہے یعنی سیدنا واما منا حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الرسل کے ظہور سے پورے ہوئے اور اسی طرح حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو جو کنعان کی فتح کی بشارتیں دی گئی تھیں بلکہ صاف صاف حضرت موصوف کو وعدہ دیا گیا تھا کہ تو اپنی قوم کو کنعان میں لے ۴۱۷ جائے گا اور کنعان کی سرسبز زمین کا انہیں ما لک کر دے گا۔ یہ وعدہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا اور وہ راہ میں ہی فوت ہو گئے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیشگوئی غلط نکلی جو اب تک توریت میں موجود ہے کیونکہ موسیٰ کی وفات کے بعد موسوی قوت اور موسوی روح اس کے شاگر د یوشع کو عطا ہوئی ۔ اور وہ خدائے تعالیٰ کے حکم اور اس کے نفخ روح سے موسیٰ میں ہو کر اور موسوی صورت پکڑ کر وہ کام بجا لایا جو موسیٰ کا کام تھا۔ سوخدائے تعالیٰ کے نزدیک وہ موسیٰ ہی تھا کیونکہ اُس نے موسیٰ میں ہو کر اور موسیٰ کی پیروی میں پوری فنا اختیار کر کے اور خدائے تعالیٰ سے موسوی روح پا کر اس کام کو کیا تھا۔ ایسا ہی ہمارے سید و مولی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توریت میں بعض پیشگوئیاں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بلا واسطہ پوری نہیں ہو سکیں بلکہ وہ بواسطہ ان خلفائے کرام کے پوری کی گئیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی میں فانی تھے۔ سو اس میں کون کلام