ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 209

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۹ ازالہ اوہام حصہ اول تب وہ چی و شخص زندہ ہو کر ایک روشن اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ اس کے سامنے آجائے گا اور اس کی الوہیت سے انکار کرے گا سود جال اسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہو گا کہ نا گہاں مسیح بن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا مگر ابن ماجہ کا قول ہے کہ وہ بیت المقدس میں اترے گا اور بعض کہتے ہیں کہ نہ بیت المقدس اور نہ دمشق بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اترے گا جہاں حضرت مہدی ہوں گے۔ (۲۱۹) اور پھر فرمایا کہ جس وقت وہ اُترے گا اُس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اُس نے پہنے ہوئے ہوں گے ( یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت اُس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہوگی ) اور دونوں ہتھیلی اُس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہوگی مگر بخاری کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مریم کو بجائے دو فرشتوں کے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر طواف کرتے دیکھا۔ پس اس حدیث سے نہایت صفائی سے یہ بات کھلتی ہے کہ دمشقی حدیث میں جو دو فرشتے لکھے ہیں وہ دراصل وہی دو آدمی ہیں کہ دوسری حدیث میں بیان کئے گئے ہیں اور اُن کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح کے مددگار اور انصار ہو جائیں گے۔ اور پھر فرمایا کہ جس وقت مسیح اپنا سر جھکائے گا تو اُس کے پسینہ کے قطرات مترشح ہوں گے اور جب اوپر کو اُٹھائے گا تو بالوں سے قطرے پسینہ کے چاندی کے دانوں کی طرح گریں گے جیسے موتی ہوتے ہیں اور کسی کافر کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ اُن کے دم کی ہوا پا کر جیتا ر ہے بلکہ فی الفور مرجائے گا اور دم اُن کا اُن کی حد نظر تک پہنچے گا۔ پھر حضرت ابن مریم ۲۲۰ دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے ۔ تمت ترجمة الحدیث ۔ یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحد ثین