ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 89
روحانی خزائن جلد۳ ۸۹ اکمل طور پر ہو تو جمیع موجودات کی حرکت کو مستلزم ہوتی ہے اور اگر بعض شیون کے لحاظ سے یعنی جزئی حرکت ہو تو اسی کے موافق عالم کے بعض اجزاء میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے عزوجل کے ساتھ اس کی تمام مخلوقات اور جمیع عالموں کا جو علاقہ ہے وہ اس علاقہ سے مشابہ ہے جو جسم کو جان سے ہوتا ہے اور جیسے جسم کے تمام اعضاء روح کے ارادوں کے تابع ہوتے ہیں اور جس طرف روح جھکتی ہے اسی طرف وہ جھک جاتے ہیں یہی نسبت خدائے تعالیٰ اور اس کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ اگر چہ میں صاحب فصوص کی طرح حضرت واجب الوجود کی نسبت یہ تو نہیں کہتا کہ خلق الاشياء وهو عينها مگر يہ ضرور کہتا ہوں کہ خلق الاشياء و هو كعينها هذا العالم كصرح ممرّد من قوارير و ماء (۷۴) الطاقت العظمى يجرى تحتها و يفعل ما يريد يخيّل في عيون قاصرة كانها هو يحسبون الشمس والقمر والنجوم مؤثرات بذاتها ولا مؤثر الا هو حکیم مطلق نے میرے پر یہ راز سر بستہ کھول دیا ہے کہ یہ تمام عالم معہ اپنے جمیع اجزاء کے اس علت العلل کے کاموں اور ارادوں کی انجام دہی کے لئے سچ سچ اس کے اعضاء کی طرح واقع ہے جو خود بخود قائم نہیں بلکہ ہر وقت اس روح اعظم سے قوت پاتا ہے جیسے جسم کی تمام قو تیں جان کی طفیل سے ہی ہوتی ہیں اور یہ عالم جو اس وجو د اعظم کے لئے قائم مقام اعضاء کا ہے بعض چیزیں اُس میں ایسی ہیں کہ گویا اُس کے چہرہ کا نور ہیں جو ظاہری یا باطنی طور پر اس کے ارادوں کے موافق روشنی کا کام دیتی ہیں اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ گویا اس کے ہاتھ ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ گویا اس کے پیر ہیں اور بعض اس کے سانس کی طرح ہیں ۔ غرض یہ مجموعہ عالم خدائے تعالیٰ کے لئے بطور ایک اندام کے واقعہ ہے اور تمام آب و تاب اس اندام کی اور ساری زندگی اس کی اُسی روح اعظم سے ہے جو اُس کی قیوم ہے اور جو کچھ اس قیوم کی ذات میں ارادی حرکت