استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 494

استفتاء — Page 154

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۵۴ حجة الله (1) اندھیری کوٹھڑی میں بھی بند کیا گیا اور وہیں مر گیا۔ دیکھ خدا کی غیرت نے تجھے کیا کیا دکھلایا۔ ذرا آنکھ کھول اور دیکھ کہ تیرا تکبر کیسا تجھے پیش آ گیا۔ تو مجھے کہتا تھا کہ تو آگ میں جلے گا۔ اور دریا میں غرق ہوگا اور کوٹھڑی میں مرے گا۔ اے بد قسمت اب دیکھ ! کہ یہ تینوں باتیں کس پر وارد ہوئیں ؟ تجھ پر یا مجھ پر ۔ سچ کہہ! کیا اس عذاب کی آگ نے تجھے نہیں جلایا ؟ کیا تو قسم کھا سکتا ہے کہ اس آگ سے تیرا دل کباب نہیں ہوا؟ اور کیوں نہ ہوا جبکہ ایسی کھلی کھلی پیشگوئی پوری ہوئی جس میں تمام ہندوؤں کو خود اقرار ہے کہ یہ وہ اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی ہے جس میں پیش از وقت سارے پتے بتلائے گئے تھے۔ میعاد بتلائی گئی۔ موت کا دن بتلایا گیا۔ صورت موت بتلائی گئی۔ اور آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ایسی کھلی کھلی پیشگوئی صرف خدا کے مرسلوں کو دی جاتی ہے۔ نہ منجموں سے ہو سکتی ہے نہ دجالوں سے ۔ پس کیا یہ وہ آگ نہیں جس نے تیرے دل کو جلا دیا ؟ کیا تو اب خدا کے کلام سے انکار کرے گا؟ یا خود کشی کر کے مرجائے گا؟ کیا تو قسم کھا سکتا ہے کہ اب تک تو ندامت کے دریا میں غرق نہیں ہوا۔ کیا تجھ پر اور تمام لوگوں پر اب تک نہیں کھلا کہ تو خذلان کی اندھیری کوٹھڑی میں بند کیا گیا ؟ اور تیری دعاؤں اور تیرے اس شیطانی الہام کے برخلاف جو تو نے اشتہار کے آخر میں لکھا تھا ظہور میں آیا ؟ اے تیرہ بخت! کیا تو اب تک جیتا ہے؟ نہیں نہیں ! تیری فضولیوں نے تجھے ہلاک کر دیا ۔ تو ان تین عذابوں میں آپ ہی پڑ گیا جن کے ذریعہ سے میری موت تجویز کرتا تھا!!! فاعتبروا یا اولی الابصار !! جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور ان کے مکر کو ہلاک نہ کر دے یعنی جو مکر بنایا گیا اور مجسم کیا گیا اس کو توڑ ڈالے گا اور اس کو مردہ کر کے پھینک دے گا اور اس کی لاش لوگوں کو دکھا دے گا اور پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید کو اس کی پنڈلیوں میں سے ننگا کر کے دکھا دیں گے یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اور فتح کے دلائل بینہ ظاہر کریں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے پہلے مومن بھی اور پچھلے مومن بھی۔ اور پھر فرمایا کہ وجہ مذکورہ سے عذاب موت کی تاخیر ہماری سنت ہے جس کو ہم نے ذکر کر دیا۔ اب جو چاہے وہ راہ اختیار کر لے جو اس کے رب کی طرف جاتی ہے۔ اس میں بدلنی کرنے والوں پر زجر اور ملامت ہے اور نیز اس میں یہ بھی تفہیم ہوئی ہے کہ جو سعادت مند لوگ ہیں اور جو خدا ہی کو چاہتے ہیں اور کسی بخل اور تعصب یا جلد بازی یا سوء فہم ی لیکھرام کی موت کی طرف اشارہ تھا۔ منہ حاشيه الجن: ۲۷