استفتاء — Page 141
روحانی خزائن جلد ۱۲ ضمیمه ۱۴۱ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ حَجَّةُ الله نحمده و نصلی علی رسوله الكريم قُتِلَ الانسانُ ما اكفره حجة الله أيها الناظرون، والأدباء المنقدون - أنتم تعلمون أنى كتبتُ من قبل هذا كتبًا ا بینندگان وادیبان در مغشوش و غیر مغشوش فرق کنندگان شامی دانید که من پیش از ین چند کتابها در عربی نوشته ام اے دیکھنے والو اور کلام کے کھوٹے اور کھرے میں فرق کرنے والو تم جانتے ہو کہ میں نے پہلے اس سے چند کتابیں عربی في العربية، وزينتها كالبيوت المشيدة المزدانة، ورأيتم أنها تحكى الدرر و آں کتاب ہا را چناں زینت دادم که خانه ها زینت داده و بلند کرده میشوند و شما دیده اید که آن کتابها میں لکھی تھیں اور ان کتابوں کو میں نے ایسی زینت دی تھی جیسا کہ گھروں کوزینت دیا جاتا اور بلند کیا جاتا ہے۔ اور تم نے العمانية، وتحسي الدرر العرفانية ۔ وكنتُ أتوقع أن العلماء يعدّونها من در ہائے عمانی را میمانند و شیر ہائے معرفت مینوشانند و من توقع میداشتم که علماء آن تالیف با را از دیکھا ہے کہ وہ کتابیں موتیوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور معرفت کا دودھ پلاتی ہیں اور میں امید رکھتا تھا کہ مولوی لوگ الآيات، ويعقدون لِزَوْرى حبّك النّطاق بصحة النيات، وما زِلتُ أسلّى بالى جملہ نشا نہا خواهند شمرد۔ و برائے دیدن من ازار بند پارچه کمر خود بصحت نیست خواهند بست و من همیشه ان کتابوں کو منجملہ نشانوں کے شمار کریں گے اور میرے دیکھنے کیلئے اپنی کمر کو صحت نیت کے ساتھ باندھیں گے اور میں ہمیشہ بهذا الأمل، حتى وجدتُهم فاسدَ النية والعمل، وبدا أن فراستى قد أخطأت ، دل خود را بدین امید بے غم میکردم تا آنکه اوشان را نیت و عمل تباه یافتم و ظاهر شد که فراست من اس امید کے ساتھ دل کو تسلی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے ان کو نیت اور کام میں خراب پایا اور ظاہر ہو گیا کہ میری وأعين العلماء ما انفتحت وتراءى اليأس وآثار الرجاء انقطعتُ، وبلغ الأمر خطا کرد و چشمہائے علماء کشاده نشدند و نومیدی ظاهر شد و نشان امید منقطع شدند - و کار بجائے رسید فراست خطا گئی اور مولویوں کی آنکھیں نہیں کھلیں اور نومیدی ظاہر ہوگئی اور امید کی نشانیاں منقطع ہو گئیں اور اس حد تک