عصمتِ انبیاءؑ — Page 653
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۹ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے جو سورج سے زیادہ سفید اور تمام شرابوں سے زیادہ سرور بخشتا ہے۔ پس اگر تم جیتے پیدا ہوئے ہو مردہ نہیں ہو تو آؤ اس پستان کی طرف دوڑو ۔ کہ تم اس سے تازہ دودھ پیو گے۔ اور وہ دودھ اپنے برتنوں سے پھینک دو کہ جو تازہ نہیں اور گندی ہواؤں نے اس کو متعفن کر دیا ہے اور اس میں کیڑے چل رہے ہیں جن کو تم دیکھ نہیں سکتے ۔ وہ تمہیں روشن نہیں کرسکتا بلکہ اندر داخل ہوتے ہی طبیعت کو بگاڑ دے گا کیونکہ اب وہ دودھ نہیں ہے بلکہ ایک زہر ہے۔ ہر ایک سفیدی کو بنظر تعریف نہ دیکھو کیونکہ بعض سپید سے بعض سیاہ ہی اچھے ہیں۔ جیسا کہ بال سیاہ جوانی کی طاقت پر دلالت کرتا ہے اور بال سفید ضعف اور کمزوری اور پیرانہ سالی پر اسی طرح ریا کاری کی سپیدی اور نیکی کی نمائش کسی کام کی نہیں ہے اس سے گنہ گار سادہ وضع اچھا ہے کہ جو فریب سے اپنے گناہ کو نہیں چھپاتا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کی مغفرت سے زیادہ قریب ہے۔ ان چیزوں پر بھروسہ مت کرو جو یقینی نہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقی روشنی نہیں جن کے نیچے کوئی پاک فلسفہ نہیں کہ وہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں ۔ تم اپنے دلوں کی خواہشوں کا اندازہ کرو کہ وہ کیا چیز چاہتے ہیں اور کس طور سے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس طرح ہم بدی سے الگ ہو سکتے ہیں ۔ کس علاج پر ان کا کانشنس بولتا ہے کہ یہ ہمارے لئے کافی ہوگا۔ کیا کوئی دل اس بات کو قبول کرتا ہے کہ مسیح کا خون اس کو گناہ کرنے سے خوف دلائے بلکہ تجربہ بتلا رہا ہے کہ اور بھی ﴿۳۰﴾ دلیر کرتا ہے۔ کیونکہ مسیح کے خون پر بھروسہ کرنے والا جانتا ہے کہ اس کے گناہ کا فدیہ ادا ہو چکا ہے لیکن گناہ کے زہر کا علم جس کو دیا جائے گا وہ کسی طرح گناہ نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اس میں اپنی ہلاکت دیکھتا ہے۔ سوخدا کی طرف سے ایک بھیجا گیا ہے جو ایسے علم تک تمہیں پہنچانا چاہتا ہے جس سے تمہارے دل خدا کو دیکھ لیں اور بدی کے زہر کو دیکھ لیں تب خود بخو دستم گناہ