عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 650 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 650

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۶ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے سے ایک روشنی اترتی اور تمام نفسانی ظلمت کو دور کر دیتی ہے۔ اسی طرح جبکہ تم روز روشن میں چاروں طرف کھڑکیاں کھول دو تو یہ طبعی قانون تمہیں نظر آ جائے گا کہ فی الفور سورج کی روشنی تمہارے اندر آ جائے گی لیکن اگر تم اپنی کھڑکیاں بند رکھو گے تو محض کسی قصہ یا کہانی سے وہ روشنی تمہارے اندر نہیں آسکتی۔ تمہیں روشنی لینے کے لئے یہ ضرور کرنا پڑے گا کہ اپنے مقام سے اٹھو اور کھڑکیاں کھول دو تب خود بخود روشنی تمہارے اندر آ جائے گی اور تمہارے گھر کو روشن کر دے گی ۔ کیا کوئی صرف پانی کے خیال سے اپنی پیاس بجھا سکتا ہے۔ نہیں بلکہ اس کو چاہیے کہ افتان و خیزاں پانی کے چشمہ پر پہنچے اور اس زلال پر اپنی نہیں رکھ دے تب اُس آب شیریں سے سیراب ہو جائے گا۔ سودہ پانی جس سے تم سیراب ہو جاؤ گے اور گناہ کی سوزش اور جلن جاتی رہے گی وہ یقین ہے۔ آسمان کے نیچے گناہ سے پاک ہونے کے لئے بجز اس کے کوئی بھی حیلہ نہیں۔ کوئی صلیب نہیں جو تمہیں گناہ سے چھڑا سکے۔ کوئی خون نہیں جو تمہیں نفسانی جذبات سے روک سکے۔ ان باتوں کو حقیقی نجات سے کوئی رشتہ اور تعلق نہیں۔ حقیقتوں کو سمجھو۔ سچائیوں پر غور کرو اور جس طرح دنیا کی چیزوں کو آزماتے ہو اس کو بھی آزماؤ۔ تب تمہیں جلد سمجھ آ جائے گی کہ بغیر سے یقین کے کوئی روشنی نہیں جو تمہیں نفسانی ظلمت سے چھڑا سکے اور بغیر کامل بصیرت کے مصفا پانی کے تمہاری اندرونی غلاظتوں کو کوئی بھی دھو نہیں سکتا۔ اور بغیر رویت حق کی زلال کے تمہاری جلن اور سوزش کبھی دور نہیں ہو سکتی۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو اور اور تدبیریں تمہیں بتلاتا ہے اور جاہل ہے وہ انسان جو اور قسم کا علاج کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگ تمہیں روشنی نہیں دے سکتے بلکہ اور بھی ظلمت کے گڑھے میں ڈالتے ہیں اور تمہیں آب شیریں نہیں دیتے بلکہ