عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 647 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 647

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۳ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے جب انسان کو واقعی طور پر علم ہو جاتا ہے کہ بلاشبہ خدا موجود ہے اور در حقیقت تمام قسم کے گناہ اس کی نظر میں قابل سزا ہیں۔ جیسے چوری ، خونریزی، بدکاری، ظلم، خیانت، شرک ، جھوٹ، جھوٹی گواہی دینا، تکبر، ریا کاری، حرام خوری، دغا ، دشنام دہی ، دھوکہ دینا ، بد عہدی ، غفلت اور بدمستی میں زندگی گزارنا، خدا کا شکر نہ کرنا ، خدا سے نہ ڈرنا ، اس کے بندوں کی ہمدردی نہ کرنا، خدا کو پُر خوف دل کے ساتھ یاد نہ کرنا ۔ عیاشی اور دنیا کی لذات میں بکتی محو ہو جانا اور منعم حقیقی کو فراموش کر دینا۔ دعا اور عاجزی سے کچھ غرض اور واسطہ نہ رکھنا۔ فروختنی چیزوں میں کھوٹ ملانا یا کم وزن کرنا یا نرخ بازار سے کم بیچنا، ماں باپ کی خدمت نہ کرنا۔ بیویوں سے نیک معاشرت نہ رکھنا۔ خاوند کی پورے طور پر اطاعت نہ کرنا۔ نامحرم مردوں یا عورتوں کو نظر بد سے دیکھنا۔ تیموں ، ضعیفوں، کمزوروں، در ماندوں کی کچھ پرواہ نہ کرنا۔ ہمسایہ کے حقوق کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھنا اور اس کو دکھ دینا۔ اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لئے دوسرے کی توہین کرنا۔ کسی کو دلآزار لفظوں کے ساتھ ٹھٹھا کرنا یا تو ہین کے طور پر کوئی بدنی نقص اس کا بیان کرنا یا کوئی بُر القب اس کا رکھنا یا کوئی بیجا تہمت اس پر لگانا یا خدا پر افترا کرنا اور نعوذ باللہ کوئی جھوٹا دعویٰ نبوت یا رسالت یا منجانب اللہ ہونے کا کر دینا یا خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہو جانا یا ایک عادل بادشاہ سے بغاوت کرنا اور شرارت سے ملک میں فساد برپا کرنا تو یہ تمام گناہ اس علم کے بعد کہ ہر یک ارتکاب سے سزا کا ہونا ایک ضروری امر ہے خود بخود ترک ہو جاتے ہیں۔ شائد پھر کوئی دھوکہ کھا کر یہ سوال پیش کر دے کہ باوجود اس کے کہ جانتے بھی ہیں کہ خدا موجود ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ گناہوں کی سزا ہوگی۔ پھر بھی ہم سے گناہ ہوتا ہے اس لئے ہم کسی اور ذریعہ کے محتاج ہیں تو ہم اس کا وہی جواب دیں گے جو پہلے دے چکے ہیں کہ ہرگز ممکن نہیں اور کسی طرح ممکن نہیں کہ تم اس بات کی پوری بصیرت حاصل کر کے کہ گناہ کرنے