اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 308
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰۸ ست بچن ح اگر یہ سوال پیش ہو کہ ممکن ہے کہ چوٹوں کے اچھا ہونے کے بعد حضرت عیسی آسمان پر چڑھائے گئے ہوں تو اس کا جواب یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو آسمان پر چڑھانا ان کا منظور ہوتا تو زمین پر اُن کیلئے مرہم طیار نہ ہوتی آسمان پر لیجانے والا فرشتہ اُنکے زخم بھی اچھے کر دیتا اور انجیل میں دیکھنے والوں کی شہادت رویت صرف اس قدر ہے کہ اُن کو سڑک پر جاتے دیکھا اور تحقیقات سے اُن کی قبر کشمیر میں ثابت ہوتی ہے اور اگر کوئی خوش فہم مولوی یہ کہے کہ قرآن میں اُن کے رفع کا ذکر ہے تو اسکے جواب میں یہ التماس ہے کہ قرآن میں رفع الی اللہ کا ذکر ہے نہ رفع الی السماء کا پھر جبکہ اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا ہے کہ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ الی کے تو اس سے قطعی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رفع موت کے بعد ہے کیونکہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھا لوں گا سو اس میں کیا کلام ہے کہ خدا کے نیک بندے وفات کے بعد خدا کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں۔ سو وفات کے بعد نیک بندوں کا رفع ہونا سنت اللہ میں داخل ہے مگر وفات کے بعد جسم کا اُٹھایا جانا سنت اللہ میں داخل نہیں اور یہ کہنا کہ توفی کے معنی اس جگہ سوتا ہے۔ سراسر الحاد ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ متوفیک ممیتک اور اسی کی تائید میں صاحب بخاری اسی محل میں ایک حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لایا ہے پس جو معنی توفی کے ابن عباس اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام متنازعہ فیہ میں ثابت ہو چکے اسکے برخلاف کوئی اور معنی کرنا یہی ملحدانہ طریق ہے مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام متنازعہ فیہ میں یہی معنی کئے پس بڑی بے ایمانی ہے جو نبی کریم کے معنوں کو ترک کر دیا جائے اور جبکہ اس جگہ توفی کے معنی قطعی طور پر وفات دینا ہی ہوا تو پھر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وفات آئندہ کے زمانہ میں ہوگی کیونکہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيہم صاف صاف بتلا رہی ہے کہ وفات ہو چکی وجہ یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی جناب الہی میں عرض کرتے ہیں کہ عیسائی میری وفات کے بعد بگڑے ہیں پھر اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ ابتک عیسائی بھی نہیں بگڑے حالانکہ ان کم بختوں نے عاجز انسان کو خدا بنادیا اور نہ صرف شرک کی نجاست کھائی بلکہ سورکھانا شراب پیناز نا کرناسب انہیں لوگوں کے حصہ میں آگیا کیا کوئی دنیا میں بدی ہے جو ان میں پائی نہیں جاتی کیا کوئی ایسا بد کاری کا کام ہے جس میں یہ لوگ نمبر اول پر نہیں پس صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ بگڑ گئے اور شرک اور نا پاکیوں کا جذام ان کو کھا گیا اور اسلام کی عداوت نے ان کو تحت الشرکی میں پہنچادیا اور نہ صرف آپ ہی ہلاک ہوئے بلکہ انکی نا پاک زندگی نے ہزاروں کو ہلاک کیا یورپ میں گتوں اور کتیوں کی طرح زنا کاری ہو رہی ہے شراب کی کثرت شہوتوں کو ایک خطر ناک جوش دے رہی ہے اور حرامی بچے لاکھوں تک پہنچ گئے ہیں یہ کس بات کا نتیجہ ہے اُسی مخلوق پرستی اور کفارہ کے پُر فریب مسئلہ کا۔ م ل آل عمران: ۵۶ ۲ المآئدة: ۱۱۸ منه