اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 256
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۴ لیکچر لدھیانہ ریو یومولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی نے کیا ہے۔ چونکہ وہ میرے ہم سبق تھے اس لئے اکثر قادیان آیا کرتے تھے وہ خوب جانتے ہیں۔ اور ایسا ہی قادیان۔ بٹالہ ۔ امرتسر اور گردو نواح کے لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اس وقت میں بالکل اکیلا تھا اور کوئی مجھے جانتا نہ تھا اور اس وقت کی حالت سے عند العقل دور از قیاس معلوم ہوتا تھا کہ میرے جیسے گمنام آدمی پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لاکھوں آدمی اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ میں اس وقت کچھ بھی نہ تھا۔ تنہا و بے کس تھا۔ خود اللہ تعالیٰ اس زمانہ میں مجھے یہ دعا سکھاتا ہے۔ رب لا تذرني فردا وانت خير الوارثین ۔ یہ دعا اس لئے سکھائی کہ وہ پیار رکھتا ہے اُن لوگوں سے جو دعا کرتے ہیں کیونکہ دعا عبادت ہے اور اس نے فرمایا ہے۔ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لگو ۔ دعا کرو، میں قبول کروں گا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغز اور مخ عبادت کا دعا ہی ہے۔ اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا کے پیرا یہ میں سکھانا چاہتا ہے کہ تو اکیلا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ تو اکیلا نہ رہے گا اور میں پکار کر کہتا ہوں کہ جیسا یہ دن روشن ہے اسی طرح یہ پیشگوئی روشن ہے اور یہ امر واقعی ہے کہ میں اس وقت اکیلا تھا۔ کون کھڑا ہو کر کہ سکتا ہے کہ تیرے ساتھ جماعت تھی مگراب دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کے موافق اور اس پیشگوئی کے موافق جو اس نے ایک زمانہ پہلے خبر دی۔ ایک کثیر جماعت میرے ساتھ کر دی۔ ایسی حالت اور صورت میں اس عظیم الشان پیشگوئی کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ پھر جبکہ اسی کتاب میں یہ پیشگوئی بھی موجود ہے کہ لوگ پر لئے ہر کی خطرناک طور پر مخالفت کریں گے اور اس جماعت کو روکنے کے لئے ہر قسم کی کوششیں کریں گے مگر میں ان سب کو نا مراد کروں گا۔ پھر براہین احمدیہ میں یہ بھی پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب تک پاک پلید میں فرق نہ کرلوں گا نہیں چھوڑوں گا۔ ان واقعات کو پیش کر کے ان لوگوں کو مخاطب نہیں کرتا المؤمن: ٦١