اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 252

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۰ لیکچرلدھیانہ مجھے اب تک زندہ رکھا اور میری جماعت کو بڑھایا۔ میرا خیال ہے کہ وہ فتویٰ کفر جو دوبارہ میرے خلاف تجویز ہوا اسے ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں پھرایا گیا۔ اور دوسو کے قریب مولویوں اور مشائخوں کی گواہیاں اور مہریں اس پر کرائی گئیں اس میں ظاہر کیا گیا کہ یہ ص بے ایمان ہے کافر ہے دجال ہے مفتری ہے کا فر ہے بلکہ اکفر ہے۔ غرض جو جو کچھ کسی سے ہو سکا میری نسبت اس نے کہا اور ان لوگوں نے اپنے خیال میں سمجھ لیا کہ بس یہ ہتھیا راب سلسلہ کو ختم کر دے گا۔ اور فی الحقیقت اگر یہ سلسلہ انسانی منصو بہ اور افترا ہوتا تو اس کے ہلاک کرنے کے لئے یہ فتویٰ کا ہتھیار بہت ہی زبر دست تھا لیکن اس کو خدا نے قائم کیا تھا۔ پھر وہ مخالفوں کی مخالفت اور عداوت سے کیوں کر مر سکتا تھا۔ جس قدر مخالفت میں شدت ہوتی گئی اسی قدر اس سلسلہ کی عظمت اور عزت دلوں میں جڑ پکڑتی گئی۔ اور آج میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ یا تو وہ زمانہ تھا کہ جب میں اس شہر میں آیا اور یہاں سے گیا تو صرف چند آدمی میرے ساتھ تھے اور میری جماعت کی تعداد نہایت ہی قلیل تھی اور یا اب وہ وقت ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ ایک کثیر جماعت میرے ساتھ ہے اور جماعت کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور دن بدن ترقی ہورہی ہے اور یقینا کروڑوں تک پہنچے گی۔ پس اس انقلاب عظیم کو دیکھو کہ کیا یہ انسانی ہاتھ کا کام ہوسکتا ہے؟ دنیا کے لوگوں نے تو چاہا کہ اس سلسلہ کا نام و نشان مٹادیں اور اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ کبھی کا اس کو مٹا چکے ہوتے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے وہ جن باتوں کا ارادہ فرماتا ہے دنیا ان کو روک نہیں سکتی اور جن باتوں کا دنیا ارادہ کرے مگر خدا تعالیٰ ان کا ارادہ نہ کرے وہ کبھی ہو نہیں سکتی ہیں۔ غور کرو! میرے معاملہ میں کل علماء اور پیر زادے اور گدی نشین مخالف ہوئے اور دوسرے مذہب کے لوگوں کو بھی میری مخالفت کے لئے اپنے ساتھ ملایا ۔ پھر میری نسبت ہر طرح کی کوشش کی مسلمانوں کو بدظن کرنے کے لئے مجھ پر کفر کا فتوی دیا