اِعجاز المسیح — Page 208
روحانی خزائن جلد ۱۸ د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور پیشگوئی کا پورا ہونا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ضرور ضرور خدا تعالیٰ مبعوث فرمائے گا اس امت کے لئے کل صدیوں کے سر پر ایک شخص ( مسیح موعود ) کو جو اس امت کے لئے دین کی تجدید کرے گا۔ یہ حدیث شریف قریباً تو اتر کے درجہ اور اجماع کے مرتبہ کو پہنچی ہوئی ہے اگر چہ مفسر اور محدث یا صوفی اس کے کچھ ہی معنی کریں مگر اس کا مطلب جو خدا نے مجھے سمجھایا ہے وہ یہ ہے کہ یہ حدیث در حقیقت مسیح موعود کے بارہ میں ہے کیونکہ جس قدر مجدد پہلے گزرے یا آئندہ ہوں وہ سب فلسفی ہیں اور مجمل طور سے ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ ہر صدی کے سر پر کوئی نہ کوئی مجدد ہوا ہو مگر مفصل اور یقینی طور سے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس قدر صدیاں جو گذریں کون کون مسجد و ہوئے ؟ کس لئے کہ آنحضرت صلعم نے کوئی فہرست مجددوں کی نہیں دی مگر ہم مسیح موعود کے بارہ میں یقینی اور قطعی دلائل اور صحیح رائے سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجد د جو آنحضرت نے اپنے محاذ اور مقابلہ میں بیان فرمایا کہ وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے اول میں میں ہوں اور آخر میں مسیح موعود ہے اور درمیانی زمانہ فیح اعوج ہے فی الحقیقت مسیح موعود ہے جس کی بعثت کا یہ نشان بتایا کہ وہ اُس زمانہ میں مبعوث ہو گا جس زمانہ میں کل صدیوں کے سرا کھٹے ہو جائیں گے۔ پس ہم جو بنظر غور دیکھتے ہیں تو وہ زمانہ یہی زمانہ ہے جس میں مجدد اعظم مبعوث ہوا اور تمام صدیوں کے سر اُس نے لئے یعنی ۱۳۱۸ ھ اور ا۱۹۰ء اور ۱۳۰۷ فصلی اور ۱۹۵۷ بکرمی اور نیز صدیوں کی ماں جو ساتواں ہزار ہے موجود ہوا ۔ پس اس مجموعہ سنین سے على راس كل مائة سنة کی پیشگوئی پوری ہوئی اور خسوف و کسوف کی حدیث اور کلام مجید کی آیت و آخرین منهم اس کی مصدق ہیں۔ پس وہ مسیح موعود مجدد معہود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ الحمد لله على ذلک الراقم محمد سراج الحق نعمانی