اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 566

اِعجاز احمدی — Page 215

۲۱۳ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد ۱۹ کے عقیدوں سے جو حدیثوں کی نسبت وہ رکھتا ہے بدل متنفر اور بیزار ہوا اور ایسے لوگوں کی صحبت سے حتی الوسع نفرت رکھیں کہ یہ دوسرے مخالفوں کی نسبت زیادہ بر باد شدہ فرقہ ہے اور چاہیے کہ نہ وہ مولوی محمد حسین کے گروہ کی طرح حدیث کے بارہ میں افراط کی طرف جھکیں اور نہ عبداللہ کی طرح تفریط کی طرف مائل ہوں بلکہ اس بارہ میں وسط کا طریق اپنا مذ ہب سمجھ لیں یعنی نہ تو ایسے طور سے بکلی حدیثوں کو اپنا قبلہ و کعبہ قرار دے دیں جس سے قرآن متروک اور مہجور کی طرح ہو جائے اور نہ ایسے طور سے اُن حدیثوں کو معطل اور لغو قرار دیدیں جن سے احادیث نبویہ بلکلی ضائع ہو جائیں ۔ ایسا ہی چاہیے کہ نہ تو ختم نبوت آنحضرت صلاحم کا انکار کریں اور نہ ختم نبوت کے یہ معنے سمجھ لیں جس سے اس اُمت پر مکالمات اور مخاطبات الہیہ کا دروازہ بند ہو جاوے۔ اور یادر ہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت صلحم وحی پا سکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وجی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ منقطع ہو چکی ہے ولا سبيل اليها الى يوم القيمة ومن قال انى لست من امة محمد صلى الله : عليه وسلم وادعی انه نبی صاحب الشريعة او من دون الشريعة وليس من الامة فمثله كمثل رجل غمره السيل المنهمر فالقاه وراءه ولم يغادر حتى مات۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلعم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ حمل اسی رات میں ایک الہام ہوا بوقت ۳ بجے ۲ منٹ اوپر اور وہ یہ ہے من أعرض عن ذكرى نبتليه بذريّة فاسقة ملحدةٍ يميلون إلى الدنيا ولا يعبد و ننی شیئًا - جو شخص قرآن سے کنارہ کرے گا ہم اس کو ایک خبیث اولاد کے ساتھ مبتلا کریں گے جن کی ملحدانہ زندگی ہوگی۔ وہ دنیا پر گریں گے اور میری پرستش سے ان کو کچھ بھی حصہ نہ ہوگا یعنی ایسی اولاد کا انجام بد ہوگا اور تو بہ اور تقویٰ نصیب نہیں ہوگا۔ منه