اِعجاز احمدی — Page 203
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۰۳ انجاز احمدی نعیمه نزول مسیح مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب نے یہ فرمایا تھاکہ یہ تقریر پہلے بنائی گئی ہے اور ایک مدت تک سوچ کر لکھی گئی ہے۔ پس اگر اب بھی کہہ دیں کہ یہ اعجاز امسیح ستر دن میں نہیں بلکہ ستر مہینے میں بنائی گئی ہے تو اب یہ امر عوام کی نظر میں مشتبہ ہو جائے گا اور میں چند روز اسی فکر میں تھا کہ کیا کروں آخر 4 نومبر ۱۹۰۲ ء کی شام کو میرے دل میں ڈالا گیا کہ ایک قصیدہ مقام مد کے مباحثہ کے متعلق بناؤں کیونکہ بہر حال قصیدہ بنانے کا زمانہ یقینی اور قطعی ہے کیونکہ اس سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ۲۹ / اور ۳۰/ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو بمقام مد بحث ہوئی تھی اور پھر دوسری نومبر کو ہمارے دوست قادیان پہنچے اور نومبر کو میں ایک گواہی کے لئے منشی نصیر الدین صاحب منصف عدالت بٹالہ کی کچہری میں گیا شاید میں نے ایک یا دو شعر راہ میں بنائے مگر ۱۸ نومبر سے کو قصیدہ پوری توجہ سے شروع کیا اور پانچ دن تک قصیدہ اور اُردو مضمون ختم کر لیا اس لئے یہ امر شک و شبہ سے پاک ہو گیا کہ کتنی مدت میں قصیدہ بنایا گیا کیونکہ اس قصیدہ میں اور نیز اُردو مضمون میں واقعات اُس بحث کے درج ہیں جو ۲۹ / اور ۳۰ اکتو بر ۲ء میں بمقام مد ہوئی تھی پس اگر یہ قصیدہ اور اُردو مضمون اس قلیل مدت میں طیار نہیں ہوا اور پہلے اس سے بنایا گیا تو پھر مجھے عالم الغیب ماننا چاہیے جس نے تمام واقعات کی پہلے سے خبر دی ۔ غرض یہ ایک عظیم الشان نشان ہے اور نہایت سہل طریق فیصلہ کا۔ اور یاد رہے کہ جیسا میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ یہ تمام مدت قصیدہ پر ہی خرچ نہیں ہوئی بلکہ اُس اُردو مضمون پر بھی خرچ ہوئی ہے جو اس قصیدہ کے ساتھ شامل ہے اور وہ دونوں بہیت مجموعی خدا تعالی کی طرف سے ایک نشان ہیں اور مقابلہ کے لئے اور دس ہزار رو پیدا انعام پانے کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ جو شخص بالمقابل لکھے وہ ساتھ ہی اس اُردو کا رڈ بھی لکھے جو میری وجو ہات کو توڑ سکے جس کی عبارت ہماری عبارت سے کم نہ ہو اور اگر کوئی ان دونوں میں سے کسی کو چھوڑے گا تو وہ اس شرط کا توڑنے والا ہوگا میں اپنے مخالفوں پر کوئی ایسی مشقت