اِعجاز احمدی — Page 167
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۶۷ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح نَبَذْتُمْ كَلَامَ اللَّهِ خَلْفَ ظُهُورِكُمْ تَرَكْتُمُ يَقِينَا لِلظُّنُونِ فَفَكَّرُوا تم لوگوں نے کلام اللہ کو پس پشت ڈال دیا اور تم نے ظلن کی خاطر یقین کو چھوڑ دیا اب سوچ لو۔ فصَارَ كَآثَارِ عَفَتْ وَ تَغَيَّبَتُ مَدَارُ نَجَاةِ النَّاسِ يَا مُتَكَبِّرُ پس قرآن ایسا ہو گیا جیسا کہ آثار موشدہ اور چھپ گیا وہی تو مدار نجات تھا۔ اے متکبر! وَإِنَّ شِفَاءَ النَّاسِ كَانَ بَيَانُهُ فَهَلْ بَعْدَهُ نَحْوَ الظُّنُونِ نُبَادِرُ اور اُس کا بیان لوگوں کے لئے شفا تھی پس کیا ہم قرآن چھوڑ کر ظنوں کی طرف دوڑیں؟ وَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِّى تَأَلُّمًا إِذَا مَا سَمِعْتُ الْبَحْتَ يَا مُتَهَوِّرُ پس اس خیال سے میرے آنسو جاری ہو گئے جب میں نے تیری بحث کو اے بے باک! سنا۔ كَذَبْتَ بِمُدٌ عَامِدًا فَتَمَايَلَتُ عَلَيْكَ شَطَايبُ جَاهِلِينَ وَثَوَّرُوا تو نے موضع مد میں قصداً جھوٹ بولا پس جاہل لوگ تیری طرف جھک گئے اور شور ڈالا ۔ وَ وَاللهِ فِي الْقُرْآن كُلُّ حَقِيقَةٍ وَآيَاتُهُ مَقْطُوعَةٌ لَّا تَغَيَّرُ اور بخدا! قرآن شریف میں ہر ایک حقیقت ہے اور اس کی آیتیں قلعی ہیں جو بدلتی نہیں مَعِينٌ مَّعِينُ الْخُلْدِ نُورُ مُعِيتِنَا هُدَاهُ نَمِيرُ الْمَاءِ لَا يَتَكَذَرُ وہ صاف پانی ہے، بہشت کا پانی ہمارے خدا کا نور ہدایت اُس کی صاف زلال ہے مکہ رنہیں اری آيَةَ كَالْغِيْدِ جَاءَتْ مِنَ السَّمَا وَفِيهَا شِفَاء لِلَّذِي يَتَدَبَّرُ اُس کی آیتیں حسین ہیں جو آسمان سے اتریں اور ان آیتوں میں فکر کرنے والوں کے لئے شفا ہے وَيُصْبِي قُلُوبَ النَّاسِ بِالنُّوُرِ وَالْهُدَى وَيُروى الْعَطَاشَى بِالْمَعِينِ وَيَظْتَرُ اور لوگوں کے دل اپنے نور کے ساتھ کھینچ رہا ہے اور پیاسوں کو صاف پانی سے سیراب کر رہا ہے اور دائیوں کی طرح دودھ پلاتا ہے وَ قَدْ كَانَ صُحُفٌ قَبْلَهُ مِثْلَ خَادِجٍ فَجَاءَ لِتَكْمِيلِ الْوَرَى لِيُغَزَّرُ (٥) اور اس سے پہلی کتا ہیں اس اونٹنی کی طرح تھیں جو مل از ولادت بچہ دیتی ہے پس قرآن لوگوں کے کام کرنے کیلئے آیا تا ایک ہاری تمام دودھ دو ہا جائے بِلَيْلٍ كَمَوْجِ الْبَحْرِ اَرْحَى سُدُولَهُ تَجَلَّى وَاَدْرِى كُلَّ مَنْ كَانَ يُبْصِرُ ایسی رات میں آیا جو سمندر کی موج کی طرح اپنی چادر پھیلا رکھے تھی سو اس نے آکر زمانہ کوروش کر دیا اور ہرایک جودیکھ سکتا تھا اسکو دکھادیا