اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 566

اِعجاز احمدی — Page 104

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۰۴ تحفہ الند حضرت عیسی کے سب سے بزرگ تر حواری کی شہادت ہے یہ وہ حواری ہے کہ اپنی تحریر میں جو برآمد ہوئی ہے خود اس شہادت کے لئے یہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ میں ابن مریم کا خادم ہوں اور اب میں نوے سال کی عمر میں یہ خط لکھتا ہوں جبکہ مریم کے بیٹے کو مرے ہوئے تین سال گزر چکے ہیں لیکن تاریخ سے یہ امر ثابت شدہ ہے اور بڑے بڑے مسیحی علماء اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ پطرس اور حضرت عیسی کی پیدائش قریب قریب وقت میں تھی اور واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسی کی عمر قریبا سال اور حضرت پطرس کی عمر اس وقت تمہیں چالیس سال کے درمیان تھی ( دیکھو کتاب متحس ڈکشنری جلد ۳ صفحه ۲۴۴۶ و موٹی ٹیولس نیو ٹسٹیمنٹ ہسٹری و دیگر کتب تاریخ ) اور اس خط کے متعلق اکابر علماء مذہب عیسوی نے بہت تحقیقات کر کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ صحیح ہے اور اس کیلئے بڑی خوشی کا اظہار کیا ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ایسی عزت سے یہ تحریر دیکھی گئی ہے کہ ایک رقم کثیر اس کے عوض میں وارثان اُس مقدس راہب کو دی گئی ہے جس کے کتب خانہ سے بعد وفات یہ کاغذ برآمد ہوا اور ہمارے نزدیک اس کاغذ کی صحت پر ایک اور قوی دلیل ہے کہ ایسے شخص کے کتب خانہ سے یہ کاغذ نکلا ہے جو رومن کیتھولک عقیدہ رکھتا تھا اور نہ صرف حضرت عیسی کی خدائی کا قائل تھا بلکہ حضرت مریم کی خدائی کا بھی قائل تھا یہ کا غذات اُس نے محض ایک پرانے تبرکات میں رکھے ہوئے تھے اور چونکہ وہ پرانی عبرانی تھی اور طرز تحریر بھی پرانی تھی اس لئے وہ اس کے مضمون سے محض نا آشنا تھا۔ یہ ایک نشان ہے ماسوا اس نئی شہادت کے جو حضرت پطرس کے خط میں سے نکلی ہے۔ متقدمین میں بھی عیسائیوں کے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسی صلیب پر سے ایک موت کی سی سخت بیہوشی میں اُتارے گئے تھے اور ایک غار کے اندر تین دن کے علاج معالجہ سے تندرست ہو کر کسی اور طرف چلے گئے جہاں مدت تک زندہ رہے ان عقائد کا ذکر انگریزی کتابوں میں مفصل درج ہے جن میں سے کتاب نیولائف آف جیزس مصنفہ سٹر اس اور کتاب ماڈرن ڈوٹ اینڈ کرسچن بیلیف اور کتاب سوپر نیچرل ریلیجن کی بعض عبارتیں ہم نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں درج کی ہیں۔ المؤلف میرزا غلام احمد قادیانی ۔ ۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء