حجة اللہ — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۴ تحفہ قیصر (۱۲) تفصیل سے لکھا کہ کیوں کر مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیوں کر آزادگی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتا ہیں ہزار ہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقینا ہزار ہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے وہ ایک ایسی کچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعوئی سے کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی ۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے اپنی تالیف کردہ کتابوں میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جو کچھ نادان مولوی تلوار کے ذریعہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ امر کچے مذہب کیلئے دوسرے رنگ میں گورنمنٹ برطانیہ میں حاصل ہے یعنی ہر ایک شخص بتمام تر آزادی اپنے مذہب کا اثبات اور دوسرے مذہب کا ابطال کر سکتا ہے اور میری رائے میں مسلمانوں کیلئے مذہبی خیالات کے اظہار میں قانونی حد تک وسیع اختیارات ہونے میں بڑی پُر خیر مصلحت ہے کیونکہ وہ اس طور سے اپنی اصل غرض کو پا کر جنگجوئی کی عادات کو جو کتاب اللہ کی غلط فہمی سے بعضوں میں پائی جاتی ہیں بھلا دیں گے۔ وجہ یہ کہ جیسا کہ ایک منشی چیز کا استعمال کرنا دوسری منشی چیز سے فارغ کر دیتا ہے ایسا ہی جب ایک مقصد ایک پہلو سے نکالتا ہے تو دوسرا پہلو خو دست ہو جاتا ہے۔ انہیں اغراض سے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مذہبی مباحثات کے بارے میں