حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 494

حجة اللہ — Page 239

۲۳۹ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ونزهها الرحمن عن كُلّ أَبْلَةٍ وصُيِّرَ غيرى كالحقير الحَبَلَّقِ اور خدا نے ان کلموں کو ہر ایک نقصان سے منزہ کیا اور میرا غیر حقیر کو نہ قد کی طرح کیا گیا علونا ذرى قنن الكلام وقولنا زلالٌ نَميرٌ لا كَمَاءٍ مُرَنَّق ہم کلام کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئے اور ہمارا قول آب خوش اور صافی ہے اور میلا کچیلا نہیں فلوجاءنا بالزمر سحبان وائل لفرّ من الميدان خوفًا كخِرُنِقِ پس اگر اپنے گروہ کے ساتھ محبان وائل بھی ہمارے پاس آئے ہر آئینہ ڈر کر خرگوش کی طرح میدان سے بھاگ جائے وفاضت على شفتي من الله رَحْمَةٌ فقولى ونطقى آيَةٌ للمُحقق اور خدا کی طرف سے میرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی ہے پس میرا قول اور نطق محقق کے لئے ایک نشان ہے وكـلـم كـســمــطــى لـؤلُوءٍ قد نظمتها وجمل كأفنان العُذَيقِ الأَسْمَقِ اور کلمے موتیوں کی طرح ہیں جن کو میں نے منظوم کیا اور جمالطیف جو کھجور کی شاخوں کی طرح ہیں وہ کھجور جو بہت بہی چلی گئی ہے إذا ما عرضنا قولنا كالمناضل كَميت سقطم أو كثوبٍ مُخَرَّقِ | جب ہم نے لڑنے والے کی طرح اپنا تشن پیش کیا پس تم مردہ کی طرح یا پھٹے ہوئے کپڑے کی طرح گر گئے فما كان يوم الجمع إلَّا لذلكم ليُبدى ربّى شأن رجل موفق پس جلسہ ہدایت کا دن ایسی غرض سے تھا کہ تمہاری ذلت ظاہر ہو اور تا خدا تعالیٰ توفیق یافتہ انسان کی شان ظاہر کرے أبادكم الرحمن خزيًا وَّ ذِلّة وأيّدنى فضلا ففكّرُ وعَمق خدا نے تم لوگوں کو ذلت کی مار سے مار دیا اور اپنے فضل سے میری تائید کی پس سوچ اور خوب سوچ ألا رُبَّ خصم كان أَكُوى كمثلكم | مُصِرًا على تكفيره غير مُعتقى خبر دار ہو بہت سے دشمن تمہاری طرح سخت لڑنے والے تھے تکفیر اصرار کرنے والا باز نہ آنے والا پر فلما أتاه الرشد من واهب الهدى أتاني وبايعنى بقلب مصدق پس جبکہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پہنچی میرے پاس آیا اور دل کی تصدیق سے بیعت کی رأيتُ أولى الأبصار لا ينكروننی | وینکر شأنی جاهلٌ مُتحزّق میں نے دانشمندوں کو دیکھا ہے کہ میرا انکار نہیں کرتے اور جو جاہل اور بخیل ہو وہ میری شان سے انکار کرتا ہے لهم أعين لا يبصرون بها فمَن يُريهم إذا فقدوا عيون التأنق ان کے واسطے آنکھیں ہیں جن سے وہ نہیں دیکھتے پس ان کو کون دکھاوے جب وہ اچھی باتوں کے دیکھنے کی آنکھ نہیں رکھتے اہر آئینہ سہو کتابت سے زائد لکھا گیا ہے صرف ” تو ہونا چاہیے (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ”سقطتم“ ہونا چاہیے۔(ناشر)