حجة اللہ — Page 197
۱۹۷ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله وآمـا نـحـن فلا يُصيبنا ضر بكلماتكم، ويرجع إليكم سهم جهلا تكم، وما تفترون كالفاسقين ۔ ٢٩ مگر ہم پس ہمیں تمہاری باتوں سے کچھ تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ اور تمہارے تیر تمہاری طرف ہی لوٹ جاتے ہیں اور جو کچھ تم افتراء کرتے ہودہ وكذلك إذا اشتهر أفيكة الأفاكين على غير سفاكين، فأمدتم الهنود كالمحتالين، وقلتم إن تم پر ہی آتا ہے اور اسی طرح جب جھوٹھ باندھنے والوں نے ناحق لوگوں کو خونی بنایا جوخونی نہیں تھے۔ پس تم نے حیلہ گروں کی طرح ناحق هذا الرجل كرجلكم فخُذوه إن كان من المغتالين۔ وما قام منكم أحد لنستو فى منه اليمين، وما ہندوؤں کو مد دی اور تم نے کہا کہ جیسا کہ لیکھر ام ایسا ہی یہ شخص ہے پس اگر یہ قاتل ہے تو اس کو پکڑ لو اور کوئی تم میں سے کھڑا نہ ہوا تاہم كان أمر أحد منكم من غير أن يَمِينَ۔ لا تبطروا ولا تفرحوا بكثرة جمعكم، فإنّ الله قادر على اس سے قسم لیتے اور تمہارا اور کئی کام نہ تھا بغیر اس کے جو جھوٹ بولو۔ مت اتر اؤ ورنہ اپنی کثرت کے ساتھ خوش ہو کیونکہ خدا تمہاری بیخ کنی قمعكم۔ فاجتنبوا البطر مُرتاعين ولا تقولوا إنّ الزحام جمعوا عليك لاعنين، وقد كُذب پر قادر ہے پس ڈرتے ہوئے اترانے سے پر ہیز کرو اور یہ مت کہو کہ لوگ تجھ پر بالا تفاق لعنت کرتے ہیں۔ اور پہلے اس سے رسولوں کی الرسل من قبل وأُوذوا ولعنوا، حتى إذا جاء أمر الله فسود وجوه المكذبين۔ تکذیب کی گئی اور دکھ دیئے گئے اور لعنت کئے گئے ۔ یہاں تک کہ جب خدا کا امر آیا تو مذبوں کا مونہہ کالا کیا گیا۔ وقد جرت عادة الله في أوليائه، و نُخب أصفيائه، أنهم اور خدا تعالیٰ کی عادت اسکے اولیاء اور برگزیدوں میں اس طرح پر جاری ہوئی ہے کہ وہ اپنے ابتداء امر میں دکھ يؤذون فـي مبــدء الأمر، ويُسلط عليهم أوباش من الزمر، فيسبونهم دیئے جاتے ہیں اور اوباش آدمی ان پر مسلط کئے جاتے ہیں۔ پس وہ او باش انکو گالیاں دیتے ہیں اور بد زبانی کرتے ويشتمونهم ويكفرونهم مستهزئين ولا يُبالون الافتراء ، ويقولون فيهم ہیں اور ٹھٹھا کرتے ہوئے کا فرٹھہراتے ہیں اور افتراؤں کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور طرح طرح کی باتیں ان کے حق أشياء ، ويُغرى بعضهم بعضا بأنواع المكر والتدابير، ولا يغادرون میں کہتے ہیں۔ اور ان کے بعض بعض کو طرح طرح کے مکروں اور تدبیروں سے اکساتے ہیں اور جھوٹ اور فریب سے