حجة اللہ — Page 143
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۴۳ حجة الله بتلبيساته، وأضحك الأطفال بـخـز عبيلاته، وجاء بزور مبين مردم را فریب داد و بکار ہائے باطل خود اطفال را بخندانید و دروغ صریح آورد لوگوں کو دھوکہ دیا اور اپنے باطل کاموں لڑکوں کو ہنسایا اور صریح جھوٹ وجئنا بلؤلوءٍ رَطْب فما استجاد، ونفضنا عليه عجماتٍ و ما مروارید تازه آوردیم پس جید و خوب ندانست و بر و درختہائے خر ما فشا ندیم لایا۔ اور ہم تازہ موتی لائے پس اس نے ان کو اچھا نہ سمجھا اور ہم نے درخت کھجور فما استحلى ثمارنا وما أرى الوداد بل زاد بخلا وعنادًا كالمستكبرين ۔ پس بر ما را شیرین ندانست و دوستی ننمود بلکه در نخل و عناد ہیچو متکبران زیاده شد اس پر جھاڑی پس اس نے ان کو شیریں خیال نہ کیا بلکہ متکبروں کی طرح بخل اور عناد میں وقال إن كُتُبَ هذا الرجل مملوّة من الأغلاط والأغلوطات، ومُبعدة و گفت کہ کتا بہائے این شخص از غلطی با پر بستند واز لطائف بڑھ گیا۔ اور کہا کہ اس شخص کی کتابیں غلطیوں سے پر ہیں اور لطائف من لطائف الأدب وملح المحاورات، وليست كماء معين ۔فما حَكَمَ | و نمکینی محاورات دور داشته شده اند و هیچو آب رواں نیستند پس بچیزے اور نمکینی محاورات سے خالی ہیں اور صاف پانی کی طرح نہیں ہیں۔ پس بما وجب، بل أخفى الـحـق ومـنـع وحجب، وتصدّى لخدع العوام | حکم نکرد که واجب بود بلکه حق را پوشیده کرد و از مردم باز داشت و برائے فریب دادن عوام پیش آمد وہ بات نہ کی جو واجب تھی بلکہ سچ کو چھپایا اور لوگوں کو روکا اور عوام کو دھوکہ دیا بعد ما شغف بالكلام ۔ وكان يعلم أن كتم الشهادة مأثمة، وتكذيب بعد زانکه بکلام من فریفته شد و او میدانست که گواهی پوشیده کردن گناه است ـ و تکذیب بعد اس کے کہ میری کلام پر فریفتہ ہوا۔ اور وہ خوب جانتا تھا کہ گواہی کا پوشیدہ کرنا گناہ ہے اور الصادق معصية، ولكنه آثر الدنيا على الآخرة، والنفس الأمارة صادق معصیت است مگر او دنیا را بر آخرت اختیار کرد و نفس اماره را صادق کی تکذیب معصیت ہے۔ لیکن اس نے آخرت کو چھوڑا اور دنیا کو اختیار کیا۔ اور نفس امارہ کو