حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 516 of 550

حقیقة المہدی — Page 516

فضل الدین بھیروی حکیم ۱، ۱۵۱،۱۷۷،۲۲۷ فضل دین مولوی ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں مسیح موعود ؑ کے وکیل ۱۹۵ح قریش قریش علم انساب میں بڑے حریص تھے ۲۹۹ح یہودیوں سے زیادہ بہادر،جنگ جو اور کینہ ور تھے ۱۵۶ح قیس (افغان کا مورث اعلیٰ) ۳۰۰ح یہ بنی اسرائیل میں سے تھا ۲۹۷ ح قیصر روم ۲۶۵ اس کے کتب خانہ میں کتاب قرابا دین موجود تھی ۱۷۲ ک، گ، ل ، م کسریٰایران ۲۶۵ کشلّیا ۳۳۵ کلارک ڈاکٹر ۱۶۳، ۱۹۰ ح، ۱۹۵ح، ۲۰۶، ۳۲۷ اس کا مسیح موعود ؑ پر اقدام قتل کا الزام جھوٹا ثابت ہونے کے باوجود حضور ؑ کا اس پر نالش نہ کرنا ۱۹۴ گلاب شاہ مسیح موعودؑ کے بارہ میں آپ کی پیشگوئی ۳۱۵ گوتم بدھ ۱۶۲ ح، ۲۱۲ آپ کی سوانح میں لکھا ہے کہ آپ منہ کی راہ سے پیدا ہوئے ۲۹۹ ح لیپل گریفن سر(مصنف کتاب رئیسان پنجاب) ۱۸۰ لیکھرام پشاوری پنڈت ۳۱۴، ۳۲۶، ۳۸۰، ۴۰۱، ۴۳۹، ۴۴۰ بڑا کینہ ور شخص تھا اسلام پر اعتراض کرتا اور نبی ؐ کو گالیاں دیتا تھا ۱۲۴، ۱۲۸ اس کا قادیان آنا اور ایک ماہ قیام کرنا ۱۲۴، ۱۳۱ محفل میں مسیح موعود ؑ کو تحقیرو توہین سے یاد کرنا ۱۲۸ اس کی مسیح موعود ؑ کے تین سال تک ہیضہ سے مرنے کی پیشگوئی ۱۳۳‘ ۲۰۵ قادیان کے ہندوؤں کا اسے طلب نشان پر دلیر کرنا ۱۳۰ قادیان سے جانے سے قبل نشان دیکھنے کا اصرار ۱۲۵ ٹھٹھے سے مسیح موعود ؑ کو نشان کے متعلق خط لکھنا ۱۲۹ مسیح موعود ؑ کی اسے نشان کیلئے ایک سال قیام کی نصیحت اور انکار پر الہام کے انتظار کرنے کا مشورہ ۱۲۷ لیکھرام کے قتل کا الہام اور اسے مطلع کیا جانا ۱۳۳ اس کی موت کے بارہ میں مسیح موعود ؑ کی خواب ۱۳۲ لیکھرام کی ہلاکت کی پیشگوئی اور پانچویں برس اس کا وقوع پذیر ہونا ۱۲۳، ۱۳۵، ۱۶۶، ۲۰۶ اس کی پیشگوئی کا آتھم کی پیشگوئی کے بعد پورا ہونے میں حکمت ۱۶۵ لیکھرام کے پاس قاتل کا ٹھہرنا ۱۳۵ تا ۱۳۸ کیفیت قتل و موتِ لیکھرام ۱۳۸، ۱۳۹ لیکھرام کے قتل کے سلسلہ میں مسیح موعود ؑ کی خانہ تلاشی اور مخالفین کی ناکامی ۱۴۱ لیکھرام اور اس کی پیشگوئی کے متعلق شہزادہ والا گوہر کے دو اعتراضات اور ان کے جوابات ۴۱۸، ۴۱۹ مالک امام ۳۱۷، ۴۵۵ آپ وفات مسیح کے قائل تھے ۲۶۹، ۳۸۱ متو شاہ(سادات کے نام غیر عربی ہونے کے ثبوت میں تحریر کردہ نام) ۲۹۹ ح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۱۱۱، ۱۲۸، ۱۲۹، ۱۶۴ح، ۱۶۷، ۱۷۳، ۱۷۷، ۲۲۸، ۲۳۳، ۲۵۵، ۲۵۷، ۲۶۶، ۲۸۹، ۲۹۳، ۲۹۷، ۳۰۲ ح، ۳۰۳ح، ۳۱۷، ۳۱۸، ۳۲۰، ۳۴۴، ۳۷۹، ۳۸۳ آپ سیّد المتقین تھے ۱۵۵ آپ اور آپ کی مطہر اولاد پر درود و سلام ۱۳، ۱۷، ۹۶ آپ کے عظیم الشان اصلاحی کام کا تفصیلی ذکر ۴۱ تا ۴۴ آپ کا اہل مکہ کے مظالم کے مقابل حسن سلوک ۲۷، ۲۸ آپ کا فصیح و بلیغ ہونا اور اعجازی کلام ۴۲۱ وما محمد الا رسول سے وفات مسیح پر استدلال ۳۸۴ح تیرہ برس تک مکہ میں کفار کے مظالم برداشت کرنا ۲۸۳ خدا نے آپ کو قریش کے حملہ سے بچایا ۱۵۶ ح آپ کی فتح و ظفر کی وجہ صدق اور پاکدامنی تھی ۱۵۶ قرآن کریم میں آپ کے لئے لفظ نزول ۳۱۶