حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 73

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۷۳ حقيقة بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ با احمد بارک الله فيكَ ۔ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ تو نے چلایا وہ تو نے نہیں چلایا وَلَكِنَّ الله رَمَى - الرَّحْمن - علم القرآن - لِتُنذِرَ بلکہ خدانے چلایا۔ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کئے ۔ تاکہ ــــــامَـا أَنْذِرَابَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ تو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم المجرمين - قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وانا اول الـمـؤمـنـيـن ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔ کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں قل جاء الحق وزهق الباطل إنّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ كُلُّ بـركـة مـن مــحــمــد صلى الله عليه وسلم ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فتبارک مــــن عــلــم وتـعـلـم ـ وقـــــــالـــــوا ان هذا إلا پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔ اور کہیں گے کہ یہ وحی نہیں ہے یہ کلمات تو اپنی اختلاق قــل الــلــــه ثــم ذرهــم فـــي خــوضهم يلعبون طرف سے بنائے ہیں۔ اُن کو کہہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے پھر اُن کولہو ولعب کے خیالات میں چھوڑ دے قــــل ان افتريتـه فـعـلـــى اجـــــــام شـــــديـــــد ـ اُن کو کہہ اگر یہ کلمات میرا افترا ہے اور خدا کا کلام نہیں تو پھر میں سخت سزا کے لائق ہوں۔ ہے۔