حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 36

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۶ حقيقة الوح پیش کر کے یہ غلطی دور کر دی اور اسلام میں یہ پہلا اجتماع تھا کہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ غرض اس مرتیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابو هریره ) وہ اپنی نام انہی سے عیسی موعود کے آنے کی پیشگوئی پر نظر ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسی ہی آجائیں گے جیسا کہ ابتدا میں ابو ہریرہ کو بھی یہی دھو کہ لگا ہوا تھا اور اکثر باتوں میں ابو ہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑنے کی پیشگوئی میں بھی اس کو یہی دھو کہ لگا تھا اور آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ لے کے ایسے اُلٹے معنی کرتا تھا جس سے سننے والے کو ہنسی آتی تھی کیونکہ وہ اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسی کی موت سے پہلے سب اُس پر ایمان لے آئیں گے حالانکہ دوسری قراءت اس آیت میں بجائے قَبْلَ مَوْتِهِ کے قَبْلَ مَوْتِهِمْ موجود ہے اور یہ عقیدہ کھلے طور پر قرآن شریف کے مخالف ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ سب لوگ حضرت عیسی کو قبول کر لیں گے کیونکہ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے: يُعِيْنَى إِلَى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ۔ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ " یعنی اے عیسی میں تجھے موت دوں گا اور پھر موت کے بعد مومنوں کی طرح اپنی طرف تجھے اُٹھاؤں گا اور پھر تمام تہمتوں سے تجھے بری کروں گا اور پھر قیامت تک تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر غالب رکھوں گا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت سے پہلے تمام لوگ حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو پھر وہ کون سے مخالف ہیں جو قیامت تک رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک اور مقام میں فرماتا ہے: وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ سے یعنی یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک عداوت رہے گی پس ظاہر ہے کہ اگر تمام یہود قیامت سے پہلے ہی حضرت عیسی پر ایمان لے آویں گے تو قیامت تک عداوت رکھنے والا کون رہے گا۔ النساء : ۱۶۰ ال عمران: ۵۶ المائدة: ۶۵