حقیقةُ الوحی — Page 593
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۳ تتمه پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶۱ میں چند شعر بطور پیشگوئی کے ہیں اور وہ یہ ہیں: اے آر یو یہ کیا ہے کیوں دل بگڑ گیا ہے ان شوخیوں کو چھوڑو راہِ حیا یہی ہے مجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے دور از بلا یہی ہے جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم بڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دل دکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے چهرام یعنی جو آر یہ یکھرام کی طرح بد زبانی سے باز نہیں آتا وہ بھی عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ ۱۲ یہ ہیں پیشگوئیاں جو اُس وقت کی گئیں جب اخبار شبھ چپتک کے ایڈیٹر اور منتظم گالیاں دینے میں حد سے بڑھ گئے اور خدا نے میرے پر ظاہر کیا کہ اب وہ ہلاک ہونے کو ہیں چنانچہ اکثر وہ الہام (۱۵۵ کے اخبار بدر اور الحکم میں بھی شائع ہو گئے ۔ تب بعد اس کے اُن بدقسمتوں کی سزا کا وقت آگیا اور یہ تین آدمی تھے ایک کا نام سوم راج تھا دوسرے کا نام اچھر چند تھا۔ تیسرے کا نام بھگت رام تھا۔ پس خدا کے قہری طمانچہ نے تین دن کے اندر ہی ان کا کام تمام کر دیا۔ اور تینوں طاعون کے شکار ہو گئے۔ اور اُن کی بلا اُن کی اولا د اور اہل و عیال پر بھی پڑی۔ چنانچہ سومراج نہ مراجب تک اُس نے اپنی عزیز اولاد کی موت طاعون سے نہ دیکھ لی۔ یہ ہے پاداش شرارتوں اور شوخیوں کی ۔ مگر ابھی میں نہیں باور کر سکتا کہ باقی ماندہ رفیق ان لوگوں کے جو قادیان میں موجود ہیں شرارتوں سے باز آجائیں گے۔ برگزیدہ نبیوں کی روحیں ان کی بدزبانی اور توہین کی وجہ سے اپنے خدائے قدیر کے آگے فریاد کر رہی ہیں۔ پس وہ پاک روحیں بلا شبہ یہ عزت رکھتی ہیں کہ خدا کی غیرت اُن کے لئے بھڑ کے۔ اس لئے یقیناً سمجھو کہ یہ قوم اپنے ہاتھ سے فنا کا بیج بورہی ہے۔ یادر ہے کہ ناپاک طبع لوگ ہرگز سرسبز بقیه حاشیه : امرتسر سے لکھتے ہیں اور وہ ہماری جماعت میں داخل نہیں ہیں بلکہ ہمارے مخالفوں کی جماعت میں سے ہیں اور مضمون مخط یہ ہے ۔ لالہ چھر چند ور ما آریہ قادیان کی طاعونی موت کا حال سن کر مجھے اس دن کی گفتگو یاد آئی کہ جو میرے سامنے آپ کے اور لالہ اچھر چند کے درمیان ہوئی تھی جو بالکل درست ہوئی اور وہ اس طرح پر تھی کہ ایک دن لالہ اچھر چند اور آپ کے درمیان حضرت مرزا صاحب کے بارہ میں گفتگو ہورہی تھی ۔ اور اثنائے گفتگو میں آپ نے کہا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کا طاعون سے محفوظ رہنا ایک نشان ہے اور کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ میں طاعون سے محفوظ رہوں گا۔ اس پر لالہ اچھر چند نے کہا تھا کہ لو میں بھی مرزا صاحب کی طرح دعوی کرتا ہوں کہ میں طاعون سے نہیں مروں گا۔ جس پر اب میں نے اُس کو کہا تھا کہ تو ضرور طاعون سے ہلاک ہو گا ۔ سو ایسا ہی ہوا۔ والسلام ۲۴ را پریل ۱۹۰۷ء۔