حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 586 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 586

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۸۶ تتمه ۔ اور خدا تعالیٰ اُن کو ایک لمبی عمر عطا کرے گا اور وہ تمام تباہیاں میری بچشم خود دیکھیں گے اور املاک اور باغ اُن کو دیئے جائیں گے اور ایک دنیا اُن کی طرف رجوع کرے گی۔ یہ الہامات قریباً ایک ۱۳۸ برس کے ہیں جو میری مخالفت میں بابو صاحب نے شائع کئے لیکن بعد اس کے جو بابو صاحب کی موت تک تخمیناً چھ برس کے الہامات تھے وہ کسی مصلحت سے مخفی رکھے گئے ہیں ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جس شخص کے ایک برس کے الہامات اس قدر ہیں چھ برس کے کس قدر ہوں گے ۔ مگراب ان الہامات کے شائع ہونے کی نسبت بالکل نومیدی ہے کیونکہ جیسا کہ میں ہمیشہ سنتار ہاوہ سب میری نا مرادی اور مورد عذاب ہونے کے متعلق تھے۔ اب جبکہ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا تو ان کے دوست ایسے الہامات کو کیوں شائع کرنے لگے یقینا وہ فی الفور بلا توقف آگ میں رکھ کر جلا دیئے ہوں گے۔ اور اگر وہ نہیں جلائے گئے تو منشی عبدالحق صاحب جو اُن کے اوّل رفیق تھے قسم کھا کر بیان کریں کہ کیا کتاب عصائے موسیٰ کی تالیف کے بعد سلسلہ الہامات کا قطعا بند ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ چھ برس تک ایک الہام بھی نہ ہوا۔ کاش اگر وہ باقی ماندہ الہامات شائع کئے جاتے تو اور بھی حقیقت کھل جاتی ۔ جن لوگوں کو محض نفسانی خیال سے میرے ساتھ ضد آ پڑی ہے وہ ایسی راہ ہر گز اختیار نہ کریں گے جس سے سچائی ظاہر ہو جائے مگر خدا نہیں چھوڑے گا جب تک سچائی ظاہر نہ کرے۔ اگر میں کا ذب اور مفتری ہوں تو میرا بھی ایسا ہی خاتمہ ہوگا جیسا کہ با بو الہی بخش کا خاتمہ ہوا لیکن اگر خدائے عزوجل میرے ساتھ ہے تو ایسی حالت میں مجھے بلاک نہیں کرے گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور پیچھے بھی کیونکہ صادقوں کے ساتھ قدیم سے اُس کی یہی سنت ہے کہ وہ اُن کو ضائع نہیں کرتا اگر چہ لوگ صادق کے درمیانی زمانہ میں اپنی نا کبھی سے اس پر اعتراض کریں اور اس کی نسبت کئی نکتہ چینیاں کریں مگر آخر کا ر صادق کا بُری ہونا خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے۔ اس اندھی دنیا نے کس نبی کو اپنی نکتہ چینی سے مستثنیٰ رکھا ہے یہودی اب تک کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کی ایک پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔ بادشاہی کا دعوی کیا مگر بادشاہی نصیب نہ ہوئی۔ یہودا اسکر یوطی کو بہشت کا تخت دیا آخر وہ وعدہ بھی صحیح نہ نکلا۔ اس زمانہ میں ہی واپس آنا بتلایا تھا وہ بات بھی غلط ثابت ہوئی۔ یہ ہیں اعتراض یہودیوں اور ملحدوں کے