حقیقةُ الوحی — Page 584
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۸۴ تتمه حقيقاً ۱۴۶ ہے اور وہ بھی مدت ہوئی کہ شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے یعنی جو لوگ مجھ سے بچی اور کامل محبت رکھتے ہیں وہ بھی طاعون سے محفوظ رہیں گے چہ جائیکہ میں۔ بالآخر ایک منصف انسان کے لئے بابو الہی بخش صاحب کے معاملہ میں دو باتیں بہت توجہ کے لائق ہیں۔ اوّل یہ امر غور کرنے کے لائق ہے کہ جب با بو الہی بخش صاحب مجھ سے برگشتہ ہو کر میرے بر خلاف اور میری تکذیب میں اپنے دوستوں کو اپنے الہام سنانے لگے تو اُس وقت میری طرف سے اس امر کے فیصلہ کے لئے کیا درخواست ہوئی تھی ۔سو وہ درخواست بابو صاحب کی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۵ و ۶ میں درج ہے جس کو پڑھ کر ناظرین معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ درخواست در حقیقت مباہلہ کے رنگ میں تھی یا یوں کہو کہ وہ صدق دل سے حضرت جل شانہ کے فیصلہ کے لئے ایک دعا تھی جس کی وہ عبارت جو مطلب سے متعلق ہے ذیل میں لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے:۔ چونکہ مجھے آسمانی فیصلہ مطلوب ہے یعنی یہ مدعا ہے کہ تا لوگ ایسے شخص کو شناخت کر کے جس کا وجود حقیقت میں اُن کے لئے مفید ہے راہ راست پر مستقیم ہو جائیں اور تا لوگ ایسے شخص کو شناخت کرلیں جو در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے امام ہے اور ابھی تک یہ کس کو معلوم ہے کہ وہ کون ہے۔ صرف خدا کو معلوم ہے یا اُن کو جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بصیرت دی گئی ہے اس لئے یہ انتظام کیا گیا ہے ( یعنی یہ کہ بابو صاحب اپنے وہ تمام الہامات جو میری تکذیب کے متعلق ہیں شائع کر دیں ) پس اگر منشی صاحب کے الہامات در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو وہ الہام جو میری نسبت اُن کو ہوئے ہیں اپنی سچائی کا کوئی کرشمہ ظاہر کریں گے (یعنی ضرور ان ) کے بعد میرے پر کوئی تباہی اور ہلاکت آئے گی ) اور اس طرح پر یہ خلقت جو واجب الرحم ہے مسرف کذاب سے نجات پا جائے گی (یعنی جبکہ بابو صاحب مجھ کو کذاب خیال کرتے ہیں کہ