حقیقةُ الوحی — Page 576
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۷۶ تتمه ۱۳۸ کے بعض حصوں میں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بڑے زور سے آیا مگر اُس کو بھی کالعدم قرار دیا۔ ایسا ہی خدا نے دوسرے ملکوں کے بارہ میں بھی بڑے زلزلوں کی خبر دی اور وہ سب پیشگوئیاں ظہور میں آگئیں مگر ان لوگوں نے اُن سے بھی نیکی کا سبق حاصل نہ کیا ۔ اب ان لوگوں کا مقابلہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اگر یہ تمام نشان در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ایک مامور بندے کی تائید میں ہیں تو وہ بس نہیں کرے گا جب تک اُن کے قبول کرنے کے لئے گردنیں نہ جھکا دے اور اگر خدا تعالیٰ سے نہیں ہیں تو یہ لوگ فتح یاب ہو جائیں گے۔ پھر صفحہ ۷۸ میں با بو الہی بخش صاحب اپنا یہ الہام پیش کرتے ہیں لا تستوی بآیات اللہ اور اُسی جگہ پر اپنی طرف سے اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ جو آیات ( نشان ) خدائے عز و جل نے خاکسار کے لئے مقدر فرمائے ہیں اُن کی برابری مرزا صاحب کی جماعت کو نصیب نہیں۔ اب ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اس طرف تو اب تک صد ہا نشان ظہور میں آچکے ہیں مگر بابو صاحب کے فرضی نشانوں کا کچھ پتہ نہیں ۔ شاید آپ کے نزدیک آپ کا طاعون سے فوت ہونا ہی ایک نشان ہو۔ پھر صفحه ۸۳ عصائے موسیٰ میں آپ لکھتے ہیں کہ جب مرزا صاحب کی طرف سے عاجز کو اظہار علامات کا سخت تقاضا ہوا تو الہام ہوا يريدون ليطفوا نور الله بافواههم والله متم | نوره ولو كره الكافرون، جو اور کا چاہے بُرا اُس کا بُرا ہو جائے گا یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر خدا تو اُس کو نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کر لے۔ جو اور کا چاہے بُرا اُس کابُر اہو جائے گا۔ اب کوئی بتلا سکتا ہے کہ میاں الہی بخش کے ہاتھ سے کون سا نور پورا ہوا اور بابوصاحب کا یہ الہام کہ جو اور کا چاہے بُرا اُس کا بُرا ہو جائے گا۔ بڑی صفائی سے پورا ہو گیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ میں طاعون سے ہلاک ہو جاؤں اور اسی بنا پر انہوں نے الہام بھی شائع کیا تھا۔ سو آخر وہ خود طاعون سے فوت ہو گئے۔ بابو صاحب کے رفیقوں کو اس جگہ کچھ سوچنا چاہیے۔ کیا یہی