حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 521 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 521

روحانی خسته ائن جلد ۲۲ ۵۲۱ تتمه حقيقة اس کے نور کو نا بود نہ کر سکی سوخدا نے جو ہر ایک کام نرمی سے کرتا ہے اس زمانہ کے لئے سب سے پہلے میرا نام عیسی ابن مریم رکھا کیونکہ ضرور تھا کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ میں ابن مریم کی طرح قوم کے ہاتھ سے دکھ اُٹھاؤں اور کافر اور ملعون اور دجال کہلاؤں اور عدالتوں میں کھینچا جاؤں سو میرے لئے ابن مریم ہونا پہلا زینہ تھا مگر میں خدا کے دفتر میں صرف عیسی ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھا دئیے ہیں اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سوجیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے ۔ میں آدم ہوں ۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں اسمعیل ہوں۔ میں (۸۵) موسی ہوں۔ میں داؤد ہوں، میں عیسی ابن مریم ہوں۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اس کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری الله في حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں ۔ سوضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھے میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔ مگر خدا نے یہی پسند کیا کہ سب سے پہلے ابن مریم کے صفات مجھ میں ظاہر کرے ۔ سو میں نے اپنی قوم سے وہ سب دکھ اُٹھائے جو ابن مریم نے یہود سے اُٹھائے بلکہ تمام قوموں سے اُٹھائے ۔ یہ سب کچھ ہوا مگر پھر خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اس کو زخمی کیا تھا دوسرے وقت میں مسیح اس کو توڑے مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے سوسنہ عیسوی کی بیسویں صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ صلیب کو مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے لیکن جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو ر ڈر گوپال بھی کہتے ہیں ( یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا ) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں