حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 472

روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه حقيقة الوحى اور تلج قلب یعنی کلی اطمینان سے محروم رہ گئے تھے اس لئے بہار کے موسم میں ایک ایسا نشان ظاہر ہوگا جس سے شلج قلب ہو جائے گا اور گذشتہ شکوک وشبہات بکلی دور ہو جائیں گے اور حجت پوری ہو جائے گی۔ اس الہام پر زیادہ غور کرنے سے یہی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ بہار کے دنوں تک نہ صرف ایک نشان بلکہ کئی نشان ظاہر ہو جائیں گے اور جب بہار کا موسم آئے گا تو اس قدر متواتر نشانوں کی وجہ سے دلوں پر اثر ہو گا کہ مخالفوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور حق کے طالبوں کے دل (۳۹) پوری تسلی پائیں گے اور یہ بیان اس بنا پر ہے کہ جب ملیح کے معنی تسلی پان اور شکوک اور شبہات سے رہا ہو جانا سمجھے جائیں لیکن اگر برف اور بارش کے معنی ہوئے تو خدا تعالیٰ کوئی اور سماوی آفات نازل کرے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔“ یہ پیشگوئی جو مع تشریح رسالہ ریویو آف ریلیجنز اور پر چہ اخبار بدر اور الحکم میں اس کے ظہور سے نو ماہ پہلے لکھی گئی تھی اور ظہور کے لئے بہار کا موسم معین کیا گیا تھا۔ صفائی سے پوری ہوگئی یعنی جب عین بہار کا موسم آیا اور باغ پھولوں اور شگوفوں سے بھر گئے تب خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ اس طرح پر پورا کیا کہ کشمیر اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں برف باری حد سے زیادہ ہوئی جس کی تفصیل ابھی ہم انشاء اللہ چند اخباروں کے حوالہ سے لکھیں گے لیکن اس ملک میں بموجب نشاء پیشگوئی کے خاص اس حصہ ملک میں وہ شدت سردی اور کثرت بارش ہوئی کہ ملک فریاد کر اُٹھا اور ساتھ ہی بعض حصہ میں اس ملک کے اس قدر برف پڑی کہ لوگ حیران ہو گئے کہ کیا ہونے والا ہے چنانچہ آج ہی ۲۵ فروری ۱۹۰۷ ء کو ایک خط بنام حاجی عمر ڈار صاحب (جو باشندہ کشمیر ہیں اور اس وقت میرے پاس قادیان میں ہیں عبدالرحمن ان کے بیٹے کی طرف سے ) کشمیر سے آیا ہے کہ ان دنوں میں اس قدر برف پڑی ہے کہ تین گز تک زمین پر چڑھ گئی اور ہر روز ابر محیط عالم ہے ۔ یہ وہ امر ہے کہ کشمیر کے رہنے والے اس سے حیران ہیں کہ بہار کے موسم میں اس قدر برف کا گرنا خارق عادت ہے۔ اور جس قدر اس ملک میں بارش ہوئی اُس کی شہادت چند اخباروں کے حوالہ سے ذیل میں درج کرتے ہیں: