حقیقةُ الوحی — Page 467
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۶۷ تتمه حقيقة الوحي مفید تھی اور عام مخلوق کے لئے نہایت ضروری تھی جبکہ اس پیشگوئی کے سمجھنے میں بھی لوگوں نے ٹھوکریں کھا ئیں تو پھر دوسری پیشگوئیوں کے سمجھنے میں غلطی کرنا قرین قیاس ہے۔ اور ایسا ہی جو حضرت عیسی کی نسبت پیشگوئی تھی وہ بھی امتحان سے خالی نہیں تھی تو پھر مسیح موعود اور مہدی مسعود کی نسبت پیشگوئی کیوں کر امتحان سے خالی ہو سکتی ہے۔ کیا جیسا کہ سمجھا جاتا تھا اور جیسا کہ یہود (۳۴) کے علماء کا خیال تھا اور آج تک خیال ہے الیاس نبی دوبارہ حضرت عیسی سے پہلے دنیا میں آگیا ؟ پھر کس طرح حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کی امید رکھی جاتی ہے۔ ایمانداروں کی یہی علامت ہے کہ جب ایک موقعہ میں ایسا خیال جھوٹا ثابت ہو گیا تو پھر چاہیے کہ عمر بھر اس کا نام لیں ۔ یہود کی امید میں الیاس کے دوبارہ آنے کے بارے میں کہاں پوری ہو گئیں کہ اب مسلمانوں کی امید میں پوری ہو جائیں گی لا يلدغ المؤمن من جحر و احد مرتین بیچ تو یہ ہے کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں کی حقیقت کو وہ زمانہ کھولتا ہے جو ان کے ظہور کا زمانہ ہوتا ہے اور اس سے پہلے متقی اور پر ہیز گار لوگ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں پر ایمان تو لاتے ہیں مگر اُن کی تفاصیل کو خدا کے حوالے کر دیتے ہیں اور جو لوگ اپنی طرف سے قبل از وقت دخل دیتے ہیں اور اس پر ضد کرتے ہیں وہی ٹھو کر کھاتے ہیں۔ (۴) منجملہ خدا تعالی کے نشانوں کے جو میری تائید میں ظاہر ہوئے نواب صدیق حسن خان وزیر ریاست بھوپال کے بارہ میں نشان ہے اور وہ یہ ہے کہ نواب صدیق حسن خان نے بعض اپنی کتابوں میں لکھا تھا کہ جب مہدی معہود پیدا ہوگا تو غیر مذاہب کے سلاطین گرفتار کر کے اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور یہ ذکر کرتے کرتے یہ بھی بیان کر دیا کہ چونکہ اس ملک میں سلطنت برطانیہ ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت اس ملک کا عیسائی بادشاہ اسی طرح مہدی کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ یہ الفاظ تھے جو انہوں نے اپنی کتاب میں شائع کئے تھے جو اب تک ان کی کتابوں میں موجود ہیں اور یہی موجب بغاوت سمجھے گئے اور یہ اُن کی غلطی تھی کہ اُنہوں نے ایسا لکھا کیونکہ ایسے خونی مہدی کے بارہ میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں بلکہ محدثین کا اتفاق ہے کہ مہدی غازی کے بارہ میں جس قدر حدیثیں ہیں کوئی بھی ما نقل مطابق اصل ۔ یہاں نام نہ لیں پڑھنا چاہیے۔ سہو کتابت سے نہ رہ گیا ہے۔ (شمس)