حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 451 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 451

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۵۱ تتمه حقيقة الوحى اس فقرہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے کسی نے ابتر کہا ہو پھر اس کے مقابل پر اس کو ابتر کہا جائے پس یہ فقرہ اس بات پر شاہد ہے کہ سعد اللہ مجھے ابتر کہتا تھا اور میری نسبت چاہتا تھا کہ میں ہر ایک خیر و برکت سے بے نصیب رہ کر اس کے رو بروفوت ہو جاؤں اور میری نسل بھی منقطع ہو جائے پس جو کچھ اُس نے خدا سے میرے لئے چاہا خدا نے اس کے لئے کر دیا۔ میں نے اس کے ابتر اور نامراد مرنے کے لئے سبقت نہیں کی اور نہ میں نے یہ چاہا کہ وہ میرے روبرو ہلاک ہو مگر جب اُس نے ان باتوں میں سبقت کی اور کھلے کھلے طور پر اپنی کتاب شہاب ثاقب میں میری موت کی نسبت پیشگوئی شائع کی اور میرا دل دُکھایا اور دُکھ دینے میں حد سے بڑھ گیا۔ تب چار برس بعد میں نے اس کے لئے دُعا کی تو خدا نے مجھ کو اس کی موت کی خبر دی اور نیز فرمایا کہ سعد اللہ جو تیرے ابتر رہنے کی پیشگوئی کرتا ہے وہ خودا بتر رہے گا مگر میں تیری نسل کو قیامت تک قائم رکھوں گا۔ اور تو برکات سے محروم نہیں ہوگا اور میں یہاں تک تجھے برکت دوں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور ایک دنیا کو تیری طرف رجوع دوں گا مگر سعد اللہ خیر و برکت سے بے نصیب رہ کر تیری آنکھوں کے سامنے ذلت کی موت سے مرے گا سوایسا ہی ظہور میں آیا۔ یہ ہیں خدا کی پیشگوئیاں جو ٹل نہیں سکتیں اگر یہ باتیں صرف زبانی ہوتیں تو کون مخالف آج میری اس پیشگوئی کو مانتا لیکن یہ تمام باتیں آج سے بارہ برس پہلے میری (۲۰) کتابوں اور اشتہاروں میں شائع ہو چکی ہیں جن سے کسی مخالف کو گریز کی جگہ نہیں مگر وہی جو حیا اور شرم کو چھوڑ کر ابو جہل کی طرح روز روشن کو رات کہتا ہے اور آفتاب کو جو چمک رہا ہے بے نور قرار دیتا ہے۔ ایسا ہی اگر سعد اللہ میری موت اور ذلت اور نیز میری جماعت کے تباہ ہونے کی نسبت اپنی کتاب شہاب ثاقب میں پیشگوئی شائع نہ کرتا تو اس وقت میری بات کون مان سکتا تھا مگر خدا کا شکر ہے کہ دونوں طرف سے مباہلہ کے رنگ میں پیشگوئیاں شائع ہو گئیں اور روز روشن کی طرح کھل گیا کہ آخر کس کے حق میں خدا تعالیٰ نے فیصلہ کیا۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ اگر چہ سعد اللہ کی نسبت میری کتابوں میں بعض سخت لفظ پاؤ گے اور تعجب کرو گے کہ اس قدر سختی اس کی نسبت کیوں اختیار کی گئی مگر یہ تعجب اُس وقت فی الفور دور