حقیقةُ الوحی — Page 424
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۲۴ حقيقة الوح میں ہر ایک مامور من اللہ کے مکذبوں کا انجام ہلاکت ہی ہوتا رہا اور ہر ایک اُمت پر جدا گانہ رنگ میں عذاب آجا تا رہا تو اس صورت میں ہمیں اس بات کے ماننے میں کہ یہ عذاب اسی مخالفت کا نتیجہ ہے کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے۔ ہر گز نہیں بلا شک و شبہ یہ خدا تعالیٰ کا وہی جلالی اور قہری حربہ ہے جو ہمیشہ سے اس کے بچے رسولوں کے مخالفوں کی ہلاکت کے لئے موجود ہو جا تا رہا ہے۔ پس جب اس کا سبب معلوم ہوا تو علاج میں کوشش کرنی چاہیے اور وہ یہ ہے حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ ماموریت کو مان کر اور ان کی اطاعت کا جوا اخلاص دل سے اُٹھا کر اور بصدق دل آپ کے زیر سایہ ہدایات رہ کر ایک پاک اور زندہ روحانی تبدیلی کو جو ہر ایک قسم کے گناہ و بغاوت سے منزہ ہے حاصل کیا جاوے۔سو جو شخص یا گھرانہ یا قوم یا اہل شہر ۱۳ ایسا کرلیں گے یقیناً بفضلہ تعالیٰ اس بلا سے نجات پائیں گے کیونکہ ابھی قبولیت کا دروازہ کھلا ہے اس لئے جو شخص بصدق دل تو بہ کرے گا قبول ہوگی لیکن ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے کہ لوگ تو بہ کریں گے مگر قبول نہ ہوگی ۔ قومیں خدا کے آگے چلائیں گی پر سنی نہ جائیگی ۔ دنیا خدا کی طرف رجوع لاوے گی لیکن انجام اس کا مایوسی ہوگی جیسا فرمایا : ربنا اكشف عنا العذاب انا مؤمنون انى لهم الذكر و قد جاء هم رسول مبين الخ (سوره دخان ) اور وہ وقت ایسا ہوگا کہ یہ بلا روئے زمین پر عام ہوگی کوئی شہر یا بستی الا ماشاء اللہ اس سے خالی نہ رہے گی بلکہ دریاؤں اور بقیہ حاشیہ نمبر : نورانی وجود آفتاب کی طرح چمکتا ہوا نظر آنے لگا اور اس عاجز نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ نہایت ہی خوبصورت اور روشن ہے گویا کہ حضورانور کے چہرہ سے نو ر ٹپک رہا ہے اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی دیکھا کہ حضور کی پوشاک سر سے پاؤں تک نہایت سفید اور براق ہے تب میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور آپ اس قدر مہربانی و محبت کے ساتھ پیش آئے کہ مجھے کامل یقین ہو گیا کہ اب میں حضور کے نظر منظور ہوکر عطائے خدمت سے مشرف کیا گیا ہوں یہاں تک کہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ میری پوشاک بھی حضور کی پوشاک کی طرح سفید اور براق ہوگئی ۔ اور ایسا ہی ایک بزرگ نے بعد توجہ اس عاجز کے حق میں یہ رویا دیکھی تھی کہ ایک تالاب ہے اور اس کے درمیان ایک پختہ عمارت ہے جس کے اندر سے ایک شعلہ روشنی کا نکل رہا ہے اور وہ بزرگ کہتا ہے کہ میں اس تحقیق کے لئے کہ یہ روشنی کس چیز سے ظاہر ہو رہی ہے اس مکان کے دروازہ پر گیا تو اس کے اندراس خاکسار کو پایا۔ حاصل کلام ۱۳