حقیقةُ الوحی — Page 375
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۷۵ حقيقة الوح پھوٹ پڑ گئی اور عبد الحمید جو خون کرنے کا مخبر تھا اور میری نسبت یہ الزام لگا تا تھا جو مجھے خون کرنے کے لئے بھیجا ہے اُس نے دوسرے مخالفوں سے الگ ہو کر سچ سچ حالات بیان کر دیئے جس سے میں بری کیا گیا اور مدعی کے ایک معزز گواہ کو کچہری میں ذلت اور اہانت بھی دیکھنی پڑی اور اس طرح پر یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ۔ شکر کا مقام ہے کہ اس پیشگوئی اور بریت کی پیشگوئی کے تین سو سے زیادہ گواہ ہیں ۔ ۱۶۳۔ نشان۔ ایک مولوی نے کتاب نبراس تالیف صاحب زمرد کا حاشیہ لکھتے ہوئے میرے حق میں ان الفاظ سے بددعا کی کہ مرزا غلام احمد و حزبه کسرهم الله تعالى یعنی (۳۶۲) خدا اس شخص مرزا غلام احمد اور اُس کے گروہ کو توڑ دے سوا بھی حاشیہ ختم کرنے نہ پایا تھا کہ وہ مولوی نور احمد مع اپنے مددگار بھائی نور محمد کے جو دونوں پسران مولوی خدا یار تھے مر گیا۔ مجھے خدا نے تین بیٹے اور دیئے۔ ۱۶۴ نشان ۔ ایک شخص اهل تشیع میں سے جو اپنے تئیں شیخ نجفی کے نام سے مشہور کرتا تھا ایک دفعہ لاہور میں آکر میرے مقابل پر شور مچانے لگا اور نشان کا طلبگار ہوا۔ میں نے باشاعت اشتہار یکم فروری ۱۸۹۷ء اس کو یہ وعدہ دیا کہ چالیس روز تک خدا تعالیٰ میرا کوئی نشان دکھائے گا۔ سوا بھی چالیس دن پورے نہیں ہوئے تھے کہ ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو نشان ہلاکت لیکھرام پشاوری ظاہر ہو گیا تب تو شیخ نجفی ایسا گم ہوا کہ اس کا نشان نہ ملا کہ کہاں گیا۔ دیکھو میرا اشتہار یکم فروری ۱۸۹۷ء۔ ۱۶۵۔ نشان - ۱ اراپریل ۱۹۰۰ء کو عید اضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو تمہیں قوت دی گئی۔ اور نیز یہ الہام ہوا کلام افــصـــحــت من لدن ربّ کریم یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔ چنانچہ اس الہام کو اُسی وقت اخویم مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور اخویم حکیم مولوی نور دین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے