حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 327

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۲۷ حقيقة الوح کے خاتمہ میں بعض آر یہ صاحبوں کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا اور لکھا تھا کہ جو تعلیم وید کی ۳۱۴ طرف منسوب کی جاتی ہے صحیح نہیں ہے اور جو تکذیب قرآن شریف کی آریہ صاحبان کرتے ہیں اُس تکذیب میں وہ کا ذب ہیں اگر اُن کو دعوی ہے کہ وہ تعلیم جو وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے بچی ہے اور یا نعوذباللہ قرآن شریف منجانب اللہ نہیں تو وہ مجھ سے مباہلہ کر لیں اور لکھا گیا تھا کہ سب سے پہلے مباہلہ کے لئے لالہ مرلی دھر مخاطب ہیں جن سے بمقام ہوشیار پور بحث ہوئی تھی پھر بعد اس کے ہمارے مخاطب لالہ جیون داس سیکرٹری آریہ سماج لاہور ہیں اور پھر کوئی اور دوسرے صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں ۔ میری اس تحریر پر پنڈت لیکھرام نے اپنی کتاب خبط احمد یہ میں جو ۱۸۸۸ء میں اُس نے شائع کی تھی جیسا کہ اس کتاب کے اخیر میں یہ تاریخ درج ہے میرے ساتھ مباہلہ کیا۔ چنانچہ وہ مباہلہ کے لئے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے صفحہ ۳۴۴ میں بطور تمہید یہ عبارت لکھتا ہے: چونکہ ہمارے مکرم و معظم ماسٹر مرلی دھر صاحب و منشی جیون داس صاحب به سبب کثرت کام سرکاری کے عدیم الفرصت ہیں بنا براں اپنے اوتشاہ اور اُن کے ارشاد سے اس خدمت کو بھی نیاز مند نے اپنے ذمہ لیا پس کسی دانا کے اس مقولہ پر کہ دروغ گو را تا بدروازه باید رسانید عمل کر کے میرزا صاحب کی اس آخری التماس کو بھی (یعنی مباہلہ کو ) ظاہر ہے کہ مباہلہ کی دو چار سطر کے لئے کسی فرصت کی ضرورت نہ تھی مباہلہ کا خلاصہ تو صرف یہ فقرہ ہے کہ اپنا اور فریق ثانی کا نام لے کر خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم میں سے جھوٹا ہے وہ ہلاک ہو۔ پس کیا ماسٹر مرلی دھر اور منشی جیون داس کو اتنی کم فرصتی تھی کہ یہ دو سطر بھی نہیں لکھ سکتے تھے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں بچی کے مقابل پر ڈر گئے اور لیکھر ام اپنی بدقسمتی سے شوخ دیدو اور اندھا آدمی تھا اس نے اپنی فطرتی شوخی سے ان کی بلا اپنے ذمہ لے لی آخر مباہلہ کے بعد 4 مارچ ۱۸۹۷ء کو بروزشنبہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ منہ