حقیقةُ الوحی — Page 9
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح نہیں کر سکتیں روحانی قوتیں اُن کی حقیقت تک پہنچ جاتی ہیں اور روحانی قوتیں صرف انفعالی طاقت اپنے اندر رکھتی ہیں یعنی ایسی صفائی پیدا کرنا کہ مبدء فیض کے فیوض اُن میں منعکس ہوسکیں سوان کے لئے یہ لازمی شرط ہے کہ حصول فیض کے لئے مستعد ہوں اور حجاب اور روک درمیان نہ ہو، تا خدا تعالیٰ سے معرفت کاملہ کا فیض پاسکیں اور صرف اس حد تک ان کی شناخت محدود نہ ہو کہ اس عالم پر حکمت کا کوئی صانع ہونا چاہیے بلکہ اس صانع سے شرف مکالمہ مخاطبہ کامل طور پر پا کر اور بلا واسطہ اُس کے بزرگ نشان دیکھ کر اُس کا چہرہ دیکھ لیں اور یقین کی آنکھ سے مشاہدہ کر لیں کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود ہے لیکن چونکہ اکثر انسانی فطرتیں حجاب سے خالی نہیں اور دنیا کی محبت اور دنیا کے 2 لالچ اور تکبر اور نخوت اور عجب اور ریا کاری اور نفس پرستی اور دوسرے اخلاقی رذائل اور حقوق اللہ اور حقوق عباد کی بجا آوری میں عمداً قصور اور تساہل اور شرائط صدق و ثبات اور دقائق محبت اور وفا سے عمد انحراف اور خدا تعالیٰ سے عمدا قطع تعلق اکثر طبائع میں پایا جاتا ہے اس لئے وہ طبیعتیں باعث طرح طرح کے حجابوں اور پردوں اور روکوں کے اور نفسانی خواہشوں اور شہوات کے اس لائق نہیں کہ قابل قدر فیضان مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا اُن پر نازل ہو جس میں قبولیت کے انوار کا کوئی حصہ ہو۔ ہاں عنایت ازلی نے جو انسانی فطرت کو ضائع کرنا نہیں چاہتی تخم ریزی کے طور پر اکثر انسانی افراد میں یہ عادت اپنی جاری کر رکھی ہے کہ کبھی کبھی سچی خوا ہیں یا بچے الہام ہو جاتے ہیں تا وہ معلوم کر سکیں کہ اُن کے لئے آگے قدم رکھنے کیلئے ایک راہ کھلی ہے لیکن اُن کی خوابوں اور الہاموں یادر ہے کہ جسمانی خواہشیں اور شہوات انبیاء اور رسل میں بھی ہوتی ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ وہ پاک لوگ پہلے خدا تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے تمام خواہشوں اور جذبات نفسانیہ سے الگ ہو جاتے ہیں اور اپنے نفس کو خدا کے آگے ذبح کر دیتے ہیں اور پھر جو خدا کے لئے کھوتے ہیں فضل کے طور پر ان کو واپس دیا جاتا ہے اور سب کچھ اُن پر وارد ہوتا ہے اور وہ درماندہ نہیں ہوتے مگر جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے اپنا نفس ذبح نہیں کرتے اُن کے شہوات اُن کے لئے بطور پردہ کے ہو جاتے ہیں آخر نجاست کے کیڑے کی طرح گند میں مرتے ہیں پس ان کی اور خدا کے پاک لوگوں کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک ہی جیل خانہ میں داروغہ جیل بھی رہتا ہے اور قیدی بھی رہتے ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ داروغہ ان قیدیوں کی طرح ہے۔ منہ