حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 318

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۸ حقيقة الوح ۳۰۵ ہو گئے ہیں۔ اس پیشگوئی کے وقت میں کون جانتا تھا کہ کس وقت اس قدر نصرت آئے گی سو یہ عجیب پیشگوئی ہے جس کے الفاظ بھی ایک نشان ہیں یعنی انگریزی عبارت اور معانی بھی نشان ہیں کیونکہ ان میں آئندہ کی خبر ہے ۱۳۴ - نشان۔ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۳ میں اس نشان کا مفصل ذکر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ مجھے الہام ہوا کہ بست و یک روپیہ آنے والے ہیں۔ چنانچہ یہ الہام بھی انہیں آریوں کو بتلایا گیا جن کا کئی دفعہ ذکر ہو چکا ہے اور الہام میں یہ تفہیم ہوئی تھی کہ وہ روپیہ آج ہی آئے گا۔ چنانچہ اُس روز وز یر سنگھ نامی ایک بیمار نے آکر مجھے ایک روپیہ دیا اور پھر مجھے خیال آیا کہ باقی بیس روپیہ شاید ڈاک کی معرفت آئیں گے۔ چنانچہ ڈاک خانہ میں اپنا ایک معتبر بھیجا گیا وہ جواب لایا کہ ڈاک منشی کہتا ہے کہ میرے پاس آج صرف پانچ روپیہ ڈیرہ غازی خان سے آئے ہیں جن کے ساتھ ایک کارڈ بھی ہے اس خبر کے سننے سے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ میں آریوں کو اس پیشگوئی سے اطلاع دے چکا تھا کہ آج اکیس روپے آئیں گے اور اُن کو معلوم تھا کہ ایک روپیہ آچکا ہے اور مجھے ڈاک منشی کی اس خبر سے اس قدر اضطراب ہوا جس کا بیان نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی اس خبر سے کہ صرف پانچ روپیہ ڈیرہ غازی خان سے آئے ہیں زیادہ روپیہ سے قطعا نومیدی ہوگئی اور مجھے علامات سے معلوم ہوا کہ آریہ لوگ جن کو یہ اطلاع دی گئی تھی دل میں بہت خوش ہوئے ہیں کہ آج ہمیں تکذیب کا موقعہ مل گیا اور میں نہایت اضطراب میں تھا کہ ایک دفعہ مجھے یہ الہام ہوا ۔ بست و یک آئے ہیں اس میں شک نہیں۔ میں نے آریوں کو یہ الہام سنایا وہ اور بھی زیادہ ہنسی کا موجب ہوا کیونکہ ایک ملازم سرکاری نے جو سب پوسٹ ماسٹر تھا علانیہ طور پر کہ دیا تھا کہ صرف پانچ روپیہ آئے ہیں بعد اس کے اتفاقاً ایک آریہ اُن آریوں میں سے ڈاک خانہ میں گیا اور اُس کو ڈاک منشی نے اُس کے استفسار سے یا خود بخود کہا کہ دراصل بیس روپے آئے ہیں اور پہلے یوں ہی میرے منہ سے