حقیقةُ الوحی — Page 291
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۱ حقيقة الوح ہمیں بغیر دعا کے ہر روز کی روٹی دے رہا ہے اور جیسا کہ فرشتہ نے کہا تھا کہ یہ روٹی تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے اسی طرح خدائے کریم مجھے اور میرے ساتھ کے درویشوں کو ہر روز اپنی طرف سے یہ دعوت بھیجتا ہے پس ہر روز نئی دعوت اُس کی ہمارے لئے ایک نیانشان ہے۔ ☆ ۱۲۳۔ نشان ۔ ایک دفعہ ایک ہندو صاحب قادیان میں میرے پاس آئے جن کا نام یاد نہیں رہا۔ اور کہا کہ میں ایک مذہبی جلسہ کرنا چاہتا ہوں آپ بھی اپنے مذہب کی خوبیوں کے متعلق کچھ مضمون لکھیں تا اس جلسہ میں پڑھا جائے میں نے عذر کیا پر اُس نے بہت اصرار سے کہا کہ آپ ضرور لکھیں چونکہ میں جانتا ہوں کہ میں اپنی ذاتی طاقت سے کچھ بھی نہیں کر سکتا بلکہ مجھ میں کوئی طاقت نہیں۔ میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے کچھ دیکھ نہیں سکتا اس لئے میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ وہ مجھے ایسے مضمون کا القا کرے جو اس مجمع کی تمام تقریروں پر غالب رہے۔ میں نے دعا کے بعد دیکھا کہ ایک قوت میرے اندر پھونک دی گئی ہے میں نے اس آسمانی قوت کی ایک حرکت اپنے اندر محسوس کی اور میرے دوست جو اس وقت حاضر تھے جانتے ہیں کہ میں نے اس مضمون کا کوئی مسودہ نہیں لکھا جو کچھ لکھا (۲۷۹) صرف قلم برداشتہ لکھا تھا اور ایسی تیزی اور جلدی سے میں لکھتا جاتا تھا کہ نقل کرنے والے کے لئے مشکل ہو گیا کہ اس قدر جلدی سے اُس کی نقل لکھے۔ جب میں مضمون ختم کر چکا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ مضمون بالا رہا خلاصہ کلام یہ کہ جب وہ مضمون اس مجمع میں پڑھا گیا تو اس کے پڑھنے کے وقت سامعین کے لئے ایک عالم وجد تھا۔ اور ہر ایک طرف سے تحسین کی آواز تھی یہاں تک کہ ایک ہند و صاحب جو صدرنشین اس مجمع کے تھے اُن کے منہ سے بھی بے اختیار نکل گیا کہ یہ مضمون تمام مضامین سے بالا رہا اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جو لا یاد آیا اس کا نام سوامی شوگن چندر تھا۔ منہ اس جلسہ کا نام دھرم مہوتسو جلسہ اعظم مذا ہب مشہور کیا گیا تھا۔ منہ مضمون چونکہ پانچ سوالات مشتہرہ کے ہر ایک پہلو کے متعلق تھا اس لئے اس کے پڑھنے کے لئے مقررہ وقت کافی نہ تھا لہذا تمام حاضرین کے انشراح صدر سے درخواست کرنے پر اس کے پڑھنے کے لئے ایک دن اور بڑھایا گیا۔ یہ بھی عام قبولیت کا نشان ہے۔ منہ