حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 282

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸۲ حقيقة الوحى عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے ان بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔ سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہو گی مگر اس فیصلہ میں اُس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے۔ تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں ۔ تو کہہ ہر ایک امر میرے خدا کے اختیار میں ہے پھر اس مخالف کو اس کی گمراہی اور ناز اور تکبر میں چھوڑ دے۔ یہ فقرہ وحی الہی کا ایک تسلی دینے کا فقرہ ہے کیونکہ جب ہماری نالش کے بعد ا کثر قانون دان سمجھ گئے تھے کہ (۲۷۰) یہ دعوی بے بنیاد ہے ضرور خارج ہو جائے گا اور امام الدین مدعا علیہ کو ہر ایک پہلو سے یہ خبریں مل گئی تھیں کہ قانون کے رو سے ہماری کامیابی کی سبیل بند ہے تو اس وجہ سے اُس کا تکبر بہت بڑھ گیا تھا اور وہ دعوے سے کہتا تھا کہ وہ مقدمہ عنقریب خارج ہو جائے گا بلکہ یہی سمجھو کہ خارج ہو گیا اور شریر لوگوں نے اُس کا ساتھ دیا۔ چنانچہ یہ بات قریباً تمام گانون میں مشہور ہو گئی تھی کہ اس مقدمہ کو ہمارے مخالفوں نے ایسا سمجھ لیا ہے کہ گویا مقدمہ اُن کے حق میں فیصلہ ہو گیا ہے سو اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیوں اس قدر ناز اور رعونت دکھلا رہے ہو ہر ایک امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے اور پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ قادر تیرے ساتھ ہے اُس کو پوشیدہ باتوں کا علم ہے بلکہ جو نہایت پوشیدہ باتیں ہیں جو انسان کے فہم سے بھی برتر ہیں وہ بھی اُس کو معلوم ہیں ماحصل اس فقرہ وحی الہی کا یہ ہے کہ اس جگہ بھی ایک پوشیدہ امر ہے کہ جواب تک نہ تجھے معلوم ہے اور نہ تمہارے وکیل کو اور نہ اُس حاکم کو جس کی عدالت میں یہ مقدمہ ہے اور پھر فرمایا کہ وہی خدا حقیقی معبود ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں انسان کو نہیں چاہیے کہ کسی دوسرے پر تو کل کرے کہ گویا وہ اُس کا معبود ہے ایک خدا ہی ہے جو یہ صفت اپنے اندر رکھتا ہے وہی ہے جس کو ہر ایک چیز کا علم ہے اور جو ہر ایک چیز کو دیکھ رہا ہے اور وہ خدا اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور اُس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی نیکی کرتے ہیں تو نیکی کے تمام باریک لوازم کو ادا کرتے ہیں سطحی