حقیقةُ الوحی — Page 161
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۶۱ حقيقة الوحي ساتھ مقابلہ کرنے والے واجب القتل ہو چکے تھے اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کو یہ رعایت دی ۱۵۷ گئی تھی کہ اگر مشرف باسلام ہو جائیں تو وہ سزا معاف ہو جائے گی اور پھر ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَاءِ الجزو نمبر ۳ سوره آل عمران یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ کی آیتوں سے منکر ہو گئے اُن کے لئے سخت عذاب ہے اور خدا غالب بدلہ لینے والا ہے۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اس آیت میں بھی منکروں کے لئے عذاب کا وعدہ ہے۔ لہذا ضرور تھا کہ اُن پر عذاب نازل ہوتا ۔ پس خدا تعالیٰ نے تلوار کا عذاب اُن پر وارد کیا اور پھر ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے إِنَّمَا جَزَوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيم الجزو نمبر 1 سورة المائده یعنی سوا اس کے نہیں کہ بدلہ ان لوگوں کا کہ جو خدا اور رسول سے لڑتے اور زمین پر فساد کے لئے دوڑتے ہیں یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دئے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پانو مخالف طرف سے کاٹے جائیں یا جلا وطن کر کے قیدر کھے جائیں۔ یہ رسوائی اُن کی دنیا میں ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے پس اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے رسول کریم کی عدول حکمی اور اس کا مقابلہ کچھ چیز نہیں تھا تو ایسے منکروں کو جو موحد تھے (جیسا کہ یہودی) انکار اور مقابلہ کی وجہ سے اس قد رسخت سزا یعنی طرح طرح کے عذابوں سے موت کی سزا دینے کے لئے خدا تعالیٰ کی کتاب میں کیوں حکم لکھا گیا اور کیوں ایسی سخت سزائیں دی گئیں کیونکہ دونوں طرف موحد تھے اس طرف بھی اور اس طرف بھی اور کسی گروہ میں کوئی مشرک نہ تھا اور باوجود اس کے یہودیوں پر کچھ بھی رحم نہ آیا اور اُن موحد لوگوں کو محض انکار اور مقابلہ رسول کی وجہ سے بری طرح قتل کیا گیا یہاں تک کہ ایک دفعہ دس ہزار یہودی ☆ 1۔*** ایک ہی دن میں قتل کئے گئے حالانکہ انہوں نے صرف اپنے دین کی حفاظت کے لئے انکار اور مقابلہ کیا تھا اور اپنے خیال میں پکے موحد تھے اور خدا کو ایک جانتے تھے۔ ہاں یہ بات ضرور یاد رکھو کہ بے شک ہزاروں یہودی قتل کئے گئے مگر اس غرض سے ال عمران : ۲۵ المائدة :۳۴ یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے جو نو جوان ایک دن میں قتل کئے گئے تھے ان کی تعداد تاریخوں میں مختلف بیان کی گئی ہے۔ بعض نے چارسو، بعض نے سات سو، بعض نے آٹھ سو اور بعض نے نو سولکھی ہے اور ممکن ہے کوئی روایت اس سے زیادہ کی بھی ہو اس لئے معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ دس سو ہندسوں میں لکھا تھا جسے کاتب نے دس ہزار سمجھ لیا۔ اور اس صفحہ کی آخری سطر میں جو ہزاروں کا ذکر ہے ان سے مراد وہ کثیر التعداد یہودی ہیں جو مختلف جنگوں اور متفرق اوقات میں قتل ہوئے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (ناشر)