حقیقةُ الوحی — Page 154
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۵۴ حقيقة الوح صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی ہیں اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں اُن سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔ میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رڈ کر سکتا ہوں۔ میں اُس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اُس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے اُن لوگوں کو گوارا نہ ہوں گے جن کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت پرستش کی حد تک پہنچ گئی ہے مگر میں اُن کی پرواہ نہیں کرتا۔ میں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں اور کس طرح اُس روشنی سے جو مجھے دی گئی تاریکی میں آسکتا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں ۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اُس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اُسکے مخالف کہا۔ میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں ۔ بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔ میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالی کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش ماررہی ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ تو مہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ اُن سے آسمان پھٹ جائیں۔ پس خدا دکھلاتا ہے یادر ہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھو کہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اُس نبوت کا دعوی کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعوئی نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظل ہے نہ کہ اصلی نبوت ۔ اسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ایسا ہی میرا نام اُمتی بھی رکھا ہے نا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔ منہ