حقیقةُ الوحی — Page 123
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۳ حقيقة الوح مہریں لگائیں اور ہمیں کا فرٹھیرایا گیا۔ اور اُن فتووں میں یہاں تک تشدد کیا گیا کہ بعض علماء نے (۱۳۰) یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لوگ کفر میں یہود اور نصاری سے بھی بدتر ہیں اور عام طور پر یہ بھی فتوے دیئے کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کرنا چاہیے۔ اور ان لوگوں کے ساتھ سلام اور مصافحہ نہیں کرنا چاہیے اور اُن کے پیچھے نماز درست نہیں کا فر جو ہوئے بلکہ چاہیے کہ یہ لوگ مساجد میں داخل نہ ہونے پادیں کیونکہ کافر ہیں۔ مسجد میں ان سے پلید ہو جاتی ہیں اور اگر داخل ہو جا ئیں تو مسجد کو دھو ڈالنا چاہیے اور ان کا مال چرانا درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں کیونکہ مہدی خونی کے آنے سے انکاری اور جہاد سے منکر ہیں مگر باوجود ان فتووں کے ہمارا کیا بگاڑا۔ جن دنوں میں یہ فتویٰ ملک میں شائع کیا گیا اُن دنوں میں دس آدمی بھی میری بیعت میں نہ تھے مگر آج خدا تعالیٰ کے فضل سے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور حق کے طالب بڑے زور سے اس جماعت میں داخل ہورہے ہیں۔ کیا مومنوں کے مقابل پر کافروں کی مدد خدا ایسی ہی کیا کرتا ہے۔ پھر اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نہیں کروڑ مسلمان اور کلمہ گو کوکا فرٹھیرایا حالانکہ ہماری طرف سے تکفیر میں کوئی سبقت نہیں ہوئی۔ خود ہی ان کے علماء نے ہم پر کفر کے فتوے لکھے اور پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ ان فتووں سے ایسے ہم سے متنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے منہ سے کوئی نرم بات کرنا بھی اُن کے نزدیک گناہ ہو گیا۔ کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کا فرٹھیرایا تھا۔ اگر کوئی ایسا کا غذ یا اشتہار یا رسالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتوائے کفر سے پہلے شائع ہوا ہے جس میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کافر ٹھیرایا ہو تو وہ پیش کریں ورنہ خود سوچ لیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کا فر تو ٹھیر اویں آپ اور پھر ہم پر یہ الزام لگاویں کہ گویا ہم نے تمام مسلمانوں کو کا فرٹھیرایا ہے اس قدر خیانت اور جھوٹ اور خلاف واقعہ تہمت کس قدر دل آزار ہے۔ ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے؟ اور پھر جبکہ ہمیں اپنے فتووں کے ذریعہ سے کافر گھیرا چکے اور آپ ہی اس بات کے قائل بھی ہو گئے۔