حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 106

روحانی خزائن جلد ۲۲ 1+4 حقيقة من لدن رب کریم در کلام تو چیزی ست که شعرا را دران فصیح کیا گیا ہے۔ تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو (۱۰۳) و خلی نیست - رب علمنى ماهو خير عندک ـ يعصمك الله من دخل نہیں۔ اے میرے خدا مجھے وہ سکھلا جو تیرے نزدیک بہتر ہے تجھے خدا دشمنوں سے العدا ويسطوا بكلّ من سطا - برز ما عندهم من الرماح اني بچائے گا اور حملہ کرنے والوں پر حملہ کر دے گا۔ انہوں نے جو کچھ اُن کے پاس ہتھیار تھے سب ظاہر کر دیئے سأخبره في اخر الوقت ـ انك لست على الحق ان الله رءوف میں مولوی محمد حسین بٹالوی کو آخر وقت میں خبر دے دوں گا کہ تو حق پر نہیں ہے۔ خدا رؤف و رحيم - انا النا لك الحـديـد ـ انـى مـع الافواج اتيك بغتة رحیم ہے۔ ہم نے تیرے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔ میں فوجوں کے ساتھ نا گہانی طور پر آؤں گا۔ انى مع الرسول أجيب أخطى و أصيب وقـــالــوا انى لك میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دونگا انے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دونگا اور کبھی ارادہ پورا کرونگا۔ اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں هذا ـ قل هو الله عجيب - جاءني أيل واختار ـ وادار اصبـعـه سے حاصل ہوا ۔ کہ خداذ والعجائب ہے۔ میرے پاس آیل آیا اور اُس نے مجھے چن لیا۔ اور اپنی انگلی کو گردش دی و اشار۔ ان وعد الله اتى۔ فطوبى لمن وجد ورأى الامراض اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اُس کو پاوے اور دیکھے۔ طرح طرح کی بیماریاں م اس وحی الہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کرونگا اور صواب بھی یعنی جو میں چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں اور کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں ۔ ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی کلام میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ میں مومن کی قبض روح کے وقت تر ڈو میں پڑتا ہوں۔ حالانکہ خدا تر ود سے پاک ہے اسی طرح یہ وحی الہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پورا ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ بھی میں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔ منہ حاشي اس جگہ ایل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ منہ