گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 648
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۴ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے کے ساتھ ہی ایک بجلی کی طرح تم پر سزا کی آگ برسے گی پھر بھی تم گناہ پر دلیر ہوسکو گے۔ یہ ایسی فلاسفی ہے جو کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتی۔ سوچو اور خوب سوچو کہ جہاں جہاں سزا پانے کا پورا یقین تمہیں حاصل ہے وہاں تم ہرگز اس یقین کے برخلاف کوئی حرکت نہیں کر سکتے ۔ بھلا بتلاؤ کیا تم آگ میں اپنا ہاتھ ڈال سکتے ہو۔ کیا تم پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اپنے تئیں گرا سکتے ہو کیا تم کنوئیں میں گر سکتے ہو کیا تم چلتی ہوئی ریل کے آگے لیٹ سکتے ہو کیا تم شیر کے منہ میں اپنا ہاتھ دے سکتے ہو۔ کیا تم دیوانہ کتے کے آگے اپنا پیر کر سکتے ہو کیا تم ایسی جگہ ٹھہر سکتے ہو جہاں بڑی خوفناک صورت سے بجلی گر رہی ہے۔ کیا تم ایسے گھر سے جلد باہر نہیں نکلتے جہاں شہتیر ٹوٹنے لگا ہے یا زلزلہ سے زمین نیچے کو دھسنے لگی ہے۔ بھلا تم میں سے کون ہے جو ایک زہریلہ سانپ کو اپنے پلنگ پر دیکھے اور جلد کو دکر نیچے نہ آجائے۔ بھلا ایک ایسے شخص کا نام تو لو کہ جب اس کے کوٹھہ کو جس کے اندروہ سوتا تھا آگ لگ جائے تو وہ سب کچھ چھوڑ کر باہر کو نہ بھاگے تو اب بتلاؤ کہ ایسا تم کیوں کرتے ہو اور کیوں ان تمام موذی چیزوں سے علیحدہ ہو جاتے ہومگر وہ گناہ کی باتیں جو ابھی میں نے لکھی ہیں ان سے تم علیحدہ نہیں ہوتے اس کا کیا سبب ہے۔ پس یاد رکھو کہ وہ جواب جو ایک عظمند پوری سوچ اور عقل کے بعد دے سکتا ہے وہ یہی ہے کہ ان دونوں صورتوں میں علم کا فرق ہے یعنی خدا کے گناہوں میں اکثر انسانوں کا علم ناقص ہے اور وہ گناہوں کو بُرا تو جانتے ہیں مگر شیر اور سانپ کی طرح نہیں سمجھتے اور پوشیدہ طور پر ان کے دلوں میں یہ خیالات ہیں کہ یہ سزائیں یقینی نہیں ہیں یہاں تک کہ خدا کے وجود میں بھی ان کو شک ہے کہ وہ ہے یا نہیں اور اگر ہے تو پھر کیا خبر کہ روح کو بعد مرنے کے بقا ہے یا نہیں اور اگر بقا بھی ہے تو پھر کیا معلوم کہ ان جرائم کی کچھ سزا بھی ہے یا نہیں بلاشبہ بہتوں کے دلوں کے اندر یہی خیال چھپا ہوا موجود ہے جس پر انہیں اطلاع نہیں