گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 40

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۰ ضمیمه تحفه گولز و سه بہتر ہے کہ تمام دنیا اس کی مفتر یا نہ تعلیم سے ہلاک ہو اس لئے قدیم سے ہماری یہی سنت ہے کہ ہم اُسی کو ہلاک کر دیتے ہیں جو دنیا کے لئے ہلاکت کی راہیں پیش کرتا ہے اور جھوٹی تعلیم اور جھوٹے عقائد پیش کر کے مخلوق خدا کی روحانی موت چاہتا ہے اور خدا پر افترا کر کے گستاخی کرتا ہے۔ اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف سے نہ ہوتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اور وہ ہرگز زندہ نہ رہ سکتا گوتم لوگ اس کے بچانے کے لئے کوشش بھی کرتے لیکن حافظ صاحب اس دلیل کو نہیں مانتے اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی تمام و کمال مدت تنیس برس کی تھی اور میں اس سے زیادہ مدت تک کے لوگ دکھا سکتا ہوں جنہوں نے جھوٹے دعوے نبوت اور رسالت کے کئے تھے اور باوجود جھوٹ بولنے اور خدا پر افترا کرنے کے وہ تئیس برس سے زیادہ مدت تک زندہ رہے۔ لہذا حافظ صاحب کے نزدیک قرآن شریف کی یہ دلیل باطل اور بیچ ہے اور اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی مگر تعجب کہ جبکہ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم اور مولوی سید آل حسن صاحب مرحوم نے اپنی کتاب ازالہ اوہام اور استفسار میں پادری فنڈل کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی تو پادری فنڈل صاحب کو اس کا جواب نہیں آیا تھا اور باوجود یکہ تواریخ کی ورق گردانی میں یہ لوگ بہت کچھ مہارت رکھتے ہیں مگر وہ اس دلیل کے توڑنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کر سکا اور پادری فنڈل صاحب نے اپنے میزان الحق میں صرف یہ جواب دیا تھا کہ مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا میں کئی کروڑ بت پرست موجود ہیں۔ لیکن یہ نہایت فضول جواب ہے کیونکہ بت پرست لوگ بت پرستی میں اپنے وحی من اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ یہ نہیں کہتے کہ خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بت پرستی کو دنیا میں پھیلاؤ۔ وہ لوگ گمراہ ہیں نہ مفتری علی اللہ ۔ یہ جواب امر متنازعہ فیہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ بحث تو دعوی نبوت اور افتر اعلی اللہ میں ہے نہ فقط ضلالت میں ۔ منہ