گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 24
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۴ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد کے رو سے ہر ایک خدا ترس کو اس زمانہ میں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مثلاً آئے دن جو سر حد یوں کی ایک وحشی قوم ان انگریز حکام کو قتل کرتی ہے جو اُن کے یا ان کے ہم قوم بھائی مسلمانوں کی جانوں اور عزتوں کے محافظ ہیں۔ یہ کس قدر ظلم صریح اور حقوق عباد کا تلف کرنا ہے ۔ کیا اُن کو سکھوں کا زمانہ یاد نہیں رہا جو بانگ نماز پر بھی قتل کرنے کو مستعد ہو جاتے تھے۔ گورنمنٹ انگریزی نے کیا گناہ کیا ہے جس کی یہ سزا اس کے معزز حکام کو دی جاتی ہے۔ اس گورنمنٹ نے پنجاب میں داخل ہوتے ہی مسلمانوں کو اپنے مذہب میں پوری آزادی دی۔ اب وہ زمانہ نہیں ہے جو دھیمی آواز سے بھی بانگ نماز دے کر مارکھاویں بلکہ اب بلند میناروں پر چڑھ کر بانگیں دو اور اپنی مسجدوں میں جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھو کوئی مانع نہیں ۔ سکھوں کے زمانہ میں مسلمانوں کی غلاموں کی طرح زندگی تھی اور اب انگریزی عملداری سے دوبارہ ان کی عزت قائم ہوئی۔ جان اور مال اور عزت متینوں محفوظ ہوئے۔ اسلامی کتب خانوں کے دروازے کھولے گئے تو کیا انگریزی گورنمنٹ نے نیکی کی یا بدی کی ؟ سکھوں کے زمانہ میں بزرگوار مسلمانوں کی قبریں بھی اُکھیڑی جاتی تھیں۔ سرہند کا واقعہ بھی اب تک کسی کو بھولا نہیں ہوگا ۔ لیکن یہ گورنمنٹ ہماری قبروں کی بھی ایسی ہی محافظ ہے جیسا کہ ہمارے زندوں کی ۔ کیسی عافیت اور امن کی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہم لوگ رہتے ہیں جس نے ایک ذرہ مذہبی تعصب ظاہر نہیں کیا۔ کوئی مسلمان اپنے مذہب میں کوئی عبادت بجالا وے۔ حج کرے زکوۃ دے۔ نماز پڑھے یا خدا کی طرف سے ہو کر یہ ظاہر کرے کہ میں مجدد وقت ہوں یا ولی ہوں یا قطب ہوں یا مسیح ہوں یا مہدی ہوں اس سے اس عادل گورنمنٹ کو کچھ سروکار نہیں بجز اس صورت کے کہ وہ خود ہی طریق اطاعت کو چھوڑ کر باغیانہ خیالات میں گرفتار ہو۔ پھر با وجود اس کے کہ گورنمنٹ کے یہ سلوک اور احسان ہیں مسلمانوں کی طرف سے اس کا عوض یہ دیا جاتا ہے کہ ناحق بے گناہ بے قصور ان حکام کو قتل کرتے ہیں جو دن رات انصاف کی پابندی سے ملک کی خدمت میں مشغول ہیں ۔ اور اگر یہ کہو کہ یہ لوگ تو سرحدی ہیں اس ملک کے مسلمانوں اور ان کے مولویوں کا کیا